منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

کراچی،حکیم سعید گراؤنڈ میں ہنگامہ آرائی کا مقدمہ پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف درج،فائرنگ کرنیوالے کس اہم سیاسی شخصیت کے محافظ نکلے،حیرت انگیزانکشاف

datetime 8  مئی‬‮  2018 |

کراچی(آن لائن) کراچی کے علاقے گلشن اقبال کے حکیم سعید گراؤنڈ میں ہنگامہ آرائی کا مقدمہ پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف درج کرلیا گیا جب کہ اس دوران فائرنگ کرنے والے پی ٹی آئی رہنما علی زیدی کے محافظ نکلے،تصادم کے بعد پولیس حرکت میں آگئی،پولیس نے گلشن اقبال تیرہ ڈی میں چھاپے مار کر دس افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔گزشتہ رات کراچی میں 12مئی کو جلسے کے مقام کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے کارکنوں کے درمیان گلشن اقبال کے

حکیم سعید گراؤنڈ میں تصادم ہوا تھا جس کے نتیجے میں کئی موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں جلادی گئی تھیں۔دونوں جماعتوں کے کارکنان کے درمیان ہنگامہ آرائی میں پتھراؤ کیا گیا جب ایک دوسرے پر ڈنڈوں کے آزادانہ استعمال سمیت ہوائی فائرنگ بھی کی گئی جس سے متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔پولیس کے مطابق حکیم سعید گراؤنڈ میں پیش آنے والے اس واقعے کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں عزیز بھٹی تھانے میں درج کرلیا گیا ہے۔پولیس کا بتانا ہے کہ مقدمے میں جلاؤ گھیراؤ، بلوہ، فائرنگ، توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کی دفعات شامل کی گئی ہیں جب کہ دونوں سیاسی جماعت کے 700 کارکنوں کو نامزد کیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق مقدمہ پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے رہنماوں کیخلاف درج کیا گیا ہے۔ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے کیمپ میں فردوس نقوی، عارف علوی اور علی زیدی موجود تھے جب کہ پیپلز پارٹی کے کیمپ میں نجمی عالم اور وقار مہدی موجود تھے۔ایف آئی آر کے مطابق ہنگامہ آرائی رات 11بجکر 50 منٹ پر شروع ہوئی، پتھراؤ سے ایس ایچ او سمیت کئی افراد زخمی ہوئے جب کہ ہنگامہ آرائی کے دوران 2 گاڑیوں اور ایک موٹرسائیکل کو نذر آتش کیا گیا۔متن میں مزید کہا گیا ہے کہ گرفتاری کی کوشش پربلوہ کرنے والے ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے عہدیداروں اورکارکنان کا یہ فعل جرم ہے۔ گزشتہ رات تحریک انصاف

اور پیپلز پارٹی کارکنوں کے تصادم میں فائرنگ کے معاملے کا بھی پول کھول دیا ہے۔فائرنگ کرنے والے پولیس اہلکار ہیں جو تحریک انصاف کے رہنما علی زیدی کی سیکیورٹی پر تعینات تھے۔پی ٹی آئی رہنما علی زیدی کی سیکیورٹی پر مامور پولیس کانسٹیبل محمد عارف نے 17 گولیاں جب کہ دوسرے پولیس اہلکار محمد ندیم نے 18 گولیاں چلائیں، فائرنگ میں بے دریغ استعمال ہونے والا اسلحہ بھی سرکاری تھا۔پولیس کے فائرنگ کرنے والے دونوں اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے، دونوں اہلکاروں نے مجموعی طور پر 35 راونڈ فائر کیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…