منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

شریف خاندان سمیت25 سے زائد کرپٹ افراد کی کرپشن کا ریکارڈ نیب ہیڈ کوارٹر سے چوری کرنے کی کوشش ناکام،5اعلیٰ سرکاری افسران کیخلاف کارروائی شروع،سنسنی خیز انکشافات

datetime 7  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نیب ہیڈ کوارٹر سے شریف خاندان اور پنجاب حکومت کی کرپشن مقدمات کی 20سے زائد فائلیں چرانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے،پنجاب کی کرپٹ بیوروکریسی کی کرپشن کا ریکارڈ چرانے کے بعد ضائع کرنے میں ملوث نیب کے ایک درجن سے زائد افسران کیخلاف اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔

نیب ہیڈکوارٹر سے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد ،پنجاب بیوروکریسی مافیا کا سرغنہ احد چیمہ کے علاوہ دیگر افسران کی کرپشن کا ریکارڈ ضائع کرنے میں نیب کے ڈائریکٹر جنرل عہدے کے افسران کا شامل ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے کیونکہ نیب ہیڈ کوارٹر میں موجود افسران کی اکثریت سابق کرپٹ چیئرمین چوہدری قمرالزمان کی باقیات بھی موجود ہیں اور اہم عہدوں پر تعینات ہیں۔نیب آفس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے حساس نوعیت کا ریکارڈ چرانے کی کوشش ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کرنے والے سیکورٹی گارڈ عابد حسین کو تعریفی سرٹیفکیٹ دئیے ہیں۔نیب کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حساس نوعیت کا ریکارڈ چرانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے اور اس آپریشن میں ملوث نیب افسران کے خلاف اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات کا آغاز بھی کردیاگیا ہے۔اعلامیہ کے مطابق سیکورٹی گارڈ کو10ہزار روپے نقد انعام بھی دیا گیا ہے،چیئرمین نیب جاوید اقبال نے سیکورٹی گارڈ عابد حسین کی فرض شناسی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے فرائض احسن طریقہ سے سرانجام دیتے ہیں وہاں نیب سے حساس نوعیت کے ریکارڈ کو غیر ذمہ دارانہ افسران کے ہاتھ میں جانے کی کوشش بھی ناکام بنا دی گئی ہے۔نیب ہیڈ کوارٹر میں فواد حسن فواد کے قریبی رشتہ دار ناصر اقبال ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر تعینات ہیں جنہیں کرپشن الزامات پر ڈی جی نیب راولپنڈی سے ہٹایا گیاتھا

اس کے کرپٹ ساتھی شکیل بھی نیب ہیڈ کوارٹر میں تعینات ہیں جنہیں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے غیر قانونی طریقہ سے پلاٹ الاٹ کرانے کے الزامات کا سامنا ہے۔نیب ذرائع نے بتایا ہے کہ چیئرمین نیب نے نیب ہیڈ کوارٹر میں تعینات بری شہرت کے حامل افسران اور کرپشن میں ملوث رہنے والے نیب افسران کو نکالنے کا فیصلہ کرلیا ہے تاکہ اہم قومی ادارہ کو کالی بھیڑوں سے پاک کیا جاسکے تاکہ ملک کی موجودہ کرپٹ افسران ،سیاستدان کو قومی دولت لوٹنے پر سزا دلوائی جاسکے۔نیب ذرائع نے بتایا ہے کہ نیب ہیڈ کوارٹر میں اب سیکورٹی کیمرے بھی لگائے جائیں گے تاکہ تمام افسران کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جاسکے تاہم چیئرمین نیب کو چاہئے کہ کرپٹ مافیا کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے نیب کے تمام افسران کو فوری طور پر ملازمتوں سے فارغ کردے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…