جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

وزیرداخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کا اصل مجرم کون ہے؟کیپٹن(ر)صفدر اور شیخ رشید کا کیا کردار رہا؟جاوید چودھری کا تجزیہ‎

datetime 7  مئی‬‮  2018 |

کل صرف وزیر داخلہ احسن اقبال کو گولی نہیں لگی‘ یہ گولی ملک کے وقار‘ ملک کی عزت اور ملک کی سیکورٹی کو لگی‘ دنیا کے ہر ملک کی چار وزارتیں خارجہ‘ داخلہ‘ خزانہ اور دفاع حکومت کی وزارتیں نہیں ہوتیں‘ یہ ملک کی وزارتیں ہوتی ہیں‘ جب بھی ان وزارتوں کے امینوں پر حملہ ہوتا ہے تو وہ ریاست پر حملہ سمجھا جاتا ہے اور احسن اقبال صرف وزیر نہیں ہیں‘یہ پاکستان کی عزت‘ وقار اور سیکورٹی کا سمبل بھی ہیں اور کل اس سمبل کو گولی ماری گئی‘

یہ قدم کسی لحاظ سے برداشت نہیں کیا جا سکتا‘ یہ ایک زاویہ تھا‘ دوسرا زاویہ اس حملے پر رد عمل ہے‘ عمران خان سے لے کر آصف علی زرداری‘ بلاول بھٹو‘ سراج الحق اور صادق سنجرانی تک ملک کے تمام سیاستدانوں نے اس حملے کی مذمت کی‘ پی ٹی آئی کے فواد چودھری اور ابرار الحق آج احسن اقبال کی عیادت کیلئے ہسپتال بھی گئے اور پی ٹی آئی کے آفیشل پیجز پر بلٹ نہیں بیلٹ کا نعرہ بھی لکھا گیا‘ یہ رویہ قابل تعریف ہے اور یہ ہو گا تو جمہوریت چلے گی اور اگر جمہوریت ہو گی تو ملک چلے گا ورنہ ہم ختم ہو جائیں گے اور اس واقعے کا آخری زاویہ اس شدت پسندی کی وجہ کیا ہے‘ کل مریم نواز صاحبہ نے ٹویٹ کی تھی، شوٹر محض ایک ذریعہ ہے‘ اصل مجرم وہ ہیں جو سیاسی مقاصد کیلئے اس کی سرپرستی کر رہے ہیں‘ یہ سرپرستی کرنے والے کون ہیں‘ میں کیپٹن صفدر اور شیخ رشید جیسے لوگوں کو اس واقعے کا ذمہ دار سمجھتا ہوں‘ یہ کیپٹن صفدر کے یہ خیالات ہیں جن کی وجہ سے آج احسن اقبال جیسے ایماندار سیاسی ورکرز کو گولی لگ رہی ہے اور یہ شیخ رشید جیسے لوگ ہیں جو پاکستان تحریک انصاف جیسی معتدل پارٹی کی پلیٹ فارم سے اس قسم کے خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے اختلاف پہلے گالی بنا‘ پھر جوتے میں تبدیل ہوا‘ پھر سیاہی بنا اور اب گولی بن گیا ہے‘ پیچھے صرف بم بچا ہے‘ کیا ہم یہ چاہتے ہیں‘ اگر نہیں تو پھر آپ کو شیخ رشید اور کیپٹن صفدر جیسے لوگوں کے خیالات کو لگام دینا ہوگی‘ یہ سوچ اور یہ ملک ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…