کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں جب کہ روزانہ کی پیداوار ایک کروڑ بیرل پر برقرار ہے۔تفصیلات کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 2فیصد اضافے کے ساتھ 3سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ جمعہ کوتیل کی قیمت میں ایک ڈالر 29سینٹ فی بیرل کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔
ہفتے کے اختتام پرعالمی مارکیٹ میں لائٹ کروڈ کے سودے 69 ڈالر 72 سینٹ میں طے پائے۔ گزشتہ ہفتے عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 69 ڈالر 97 سینٹ فی بیرل تک پہنچی تھی۔برطانوی مارکیٹ میں تیل ایک ڈالر 25 سینٹ مہنگا ہوا جب کہ برینٹ نارتھ کی قیمت 74 ڈالر 87 سینٹ فی بیرل رہی۔تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد سرمایہ کار ایران اورامریکہ کے جوہری معاہدے پر ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کا انتظار کررہے ہیں جو 12 مئی کو متوقع ہے۔اقتصادی ماہرین نے دعویٰ کیاہے کہ جوہری معاہدے پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیدا ہونے والا حالیہ تنازعہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب ہے۔واضح رہے کہ ایران پیٹرولیم ایکسپورٹ ممالک کی تنظیم (اوپیک)کا رکن اورخام تیل کا اہم برآمد کنندہ ہے۔ماہرین نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ طے نہیں پاتا تو دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں انتہائی تشویشناک اضافہ ہوسکتاہے جس کا اثر عالمی معیشت پر پڑے گا ۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں جب کہ روزانہ کی پیداوار ایک کروڑ بیرل پر برقرار ہے۔تفصیلات کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 2فیصد اضافے کے ساتھ 3سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ جمعہ کوتیل کی قیمت میں ایک ڈالر 29سینٹ فی بیرل کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ہفتے کے اختتام پرعالمی مارکیٹ میں لائٹ کروڈ کے سودے 69 ڈالر 72 سینٹ میں طے پائے۔



















































