’’چولستان کو مقامی زبان میں روہی کہا جاتاہے‘ چولستان ترکی زبان کا لفظ ہے‘ ترکی زبان کے لفظ چول سے نکلا ہے جسکا مطلب صحرا ہے‘ مقامی لوگ خانہ بدوشوں کی زندگی گزارتے ہیں اور اپنے مویشیوں کی خوراک اور پانی کیلئے ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل مکانی کرتے رہتے ہیں‘‘
بہاولپور جنوبی پنجاب کا ایک اہم شہر ہے جس کی اپنی ایک شاندار تاریخ اور ماضی ہے ۔ قیام پاکستان سے پہلے اسے ایک ریاست کا درجہ حاصل تھاجس کے حکمران عباسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔یہ خاندان سندھ سے بہاولپور منتقل ہوا اور دُرانی سلطنت کے زوال کے بعد خودمختار ریاست کا اعلان کر دیا۔ بہاولپور کی ریاست چند ریاستوں میں ایک ہے جو شمال میں دریائے ستلج اور مشرق میں کوہ ہمالیہ کے درمیان واقع ہے۔ اس کے جنوب میں دریائے جمنا اور دہلی جبکہ مغرب میں سرسہ کا پرگنہ واقع ہے ۔یہ ریاستیں مرہٹہ سلطنت کے زیر اثر تھیں جو سندھیا دورِ حکمرانی کے زیر اثر رہیں۔ تاوقت کہ سن 1803سے 1805کے دوران انگریز وں سے محاذ آرائی کے نتیجے میں مرہٹہ دورِ حکمرانی کا خاتمہ ہوا اور یہ تمام علاقہ انگریزوں کے زیر انتظام چلا گیا۔ 1809میں معاہدہ لاہور کے تحت مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکمرانی دریائے ستلج کے دائیں جانب تک تسلیم کر لی گئی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بہاولپور ریاست کا قیام سن 1802میں نواب محمد بہاول خان عباسی کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ ان کے بعد نواب محمد بہاول خان عباسی سوئم نے 22فروری 1833ء کو انگریز حکمرانوں کے ساتھ ایک اتحاد قائم کیا جس میں انگریزوں نے ریاست بہاولپور کے اندر داخلی طور پر ان کی حکمرانی کو تسلیم کر لیا۔ جبکہ ریاست کے بیرونی معاملات میں یہ اختیار انگریزوں کو حاصل ہوگیا لیکن اس ریاست پر کبھی انگریزوں کی حکمرانی قائم نہیں ہوئی تاوقتیکہ 7اکتوبر 1947کو یہ ریاست پاکستان میں شامل ہو گئی اور 14اکتوبر 1955کو مغربی پاکستان کا حصہ بن گئی۔



















































