جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

بھارت ،کتوں کے حملے میں تین بچے ہلاک، مشتعل لوگوں نے 13 کتے مار ڈالے

datetime 3  مئی‬‮  2018 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارت کے ایک دیہات میں ایک ہی دن میں کتوں کے کاٹنے سے تین بچوں کی ہلاکت کے بعد لوگوں نے مشتعل ہو کر 13 آوارہ کتوں کو مار ڈالا۔ بھارت میں کتوں کو ہلاک کرنا جرم ہے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق یہ واقعہ ریاست اترپردیش کے ایک گاؤں خیرآباد میں پیش آیا۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کتوں کے حملوں سے علاقے میں کافی خوف و ہراس اور اشتعال پھیلا ہوا ہے۔

اور جنوری سے اب تک ان حملوں میں 14 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔کتوں کے ٹولیوں نے تین مختلف واقعات میں تین بچوں کو اس وقت حملے کر کے ہلاک کر ڈالا جب وہ آبادی کے باہر باغ میں آم توڑ رہے تھے۔ تینوں بچوں کی عمریں 12 سال سے کم تھیں۔بھارت میں 2001 میں جانوروں کی فلاح و بہبود سے متعلق منظور کیے جانے والے قانون کے تحت آوارہ کتوں کو ہلاک کرنا جرم ہے۔ لیکن دیہاتیوں نے قانون کی پروا نہ کرتے ہوئے تین کتوں کو گولی مار کر اور 10 کو ڈنڈوں سے پیٹ کر ہلاک کر دیا۔ضلعی پولیس افسر سریش راؤ کلکرانی نے بتایا کہ کتوں نے جب حملہ کیا تو اس وقت بچے اکیلے تھے۔پولیس عہدے دار نے کم ازکم تین بچوں کی ہلاکتوں کی تصدیق بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوری سے اب تک کتوں کے حملوں میں کئی بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم انہوں نے تعداد نہیں بتائی۔انہوں نے کہا کہ کتوں کے حملوں کو کنٹرول کرنے کے لیے محکمہ جنگلات کے اہل کاروں اور عہدے داروں پر مشتمل ایک ٹیم بنا دی گئی ہے۔عہدے داروں کا کہنا تھا کہ کتوں کے حملوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ نومبر میں یہاں کا ذبحہ خانہ بند کر دیا گیا تھا۔ جو کتوں اور دیگر جانوروں کو بچا کچا گوشت اور چھچھڑے وغیرہ مہیا کرنے کا ایک بڑا ذریعہ تھا۔ایک اندازے کے مطابق بھارت میں تین کروڑ آوارہ کتے موجود ہیں اور خبروں کے مطابق ہر سال لگ بھگ ایک کروڑ 70 لاکھ کتے کسی نہ کسی کو کاٹ لیتے ہیں۔صحت کے عالمی ادارے کے 2014 کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں ہر سال کتے کے کاٹنے سے تقریباً 20 ہزار افراد باولے پن کے مرض میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔کتوں کو مارنے کیخلاف قانون کے باوجود بھارت میں کتوں کو ہلاک کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…