جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

پاک فضائیہ کے انجینئرز کا کارنامہ، ایسا عظیم کارنامہ جس سے ملکی طاقت کے علاوہ ملکی خزانے کے اربوں روپے بھی بچا لیے

datetime 30  اپریل‬‮  2018 |

کامرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) پاک فضائیہ کے انجینئرز نے 50 سال سے زائد پرانے میراج طیاروں کی از سر نو تیاری کر کے انہیں جدید طیاروں کی صف میں لا کھڑا کیا، پاکستان کا پیسہ بھی بچا لیا، کامرہ ایئرو ناٹیکل کمپلیکس میں50 سال قبل خریدے گئے میراج طیاروں کی ابھی تک اوورہالنگ اوراپ گریڈیشن ہورہی ہے۔ حال ہی میں کامرہ کی فضاؤں میں جدید دورکے نام نہاد لڑاکا طیارے میراج روزون کے اڑان بھرنے کی گونج سنائی دی،

جسے پاک فضائیہ نے مکمل ناکارہ ہو جانے کے بعد نئے سرے سے تیارکیا ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق میراج کے پرانے بیڑے میں شامل کئی طیاروں کو برسوں بعد ابھی تک اوورہال کیا جا رہا ہے جن میں پہلے 2 طیارے بھی شامل ہیں جو 1960میں فرانس کی طیارہ سازکمپنی سے خریدے گئے تھے۔ طیاروں کی اوور ہالنگ میں ایسی جدید مہارت بروئے کار لائی جا رہی ہے جوہوانا کی سڑکوں پر چلنے والی کلاسیک امریکی کاروں میں استعمال ہوتی ہے۔کامرہ کمپلیکس میں میراج ری بلڈ فیکٹری کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ایئرکموڈور سلمان ایم فاروقی کاکہناہے کہ ہم نے ایسی صلاحیت حاصل کرلی ہے کہ ہمارے ماہرین پرانے میراج طیاروں میں کوئی بھی جدیدنظام شامل کر سکتے ہیں۔ میراج ری بلڈفیکٹری میں ایک مینٹیننس ہینگرکے انچارج گروپ کیپٹن محمدفاروق کے مطابق میراج طیاروں کی بیرون ملک اوورہالنگ پاکستان جیسے ملک کیلیے کافی مہنگی تھی لہٰذا فرانسیسی طیارہ ساز کمپنی کے تعاون سے 1878 پاکستان ایئروناٹیکل کمپلیکس میں میراج ری بلڈ فیکٹری کاقیام عمل میں لایاگیا جواب تک ملک کیلیے اربوں ڈالرکی بچت کرچکی ہے۔ طیاروں کی اوورہالنگ اوردوبارہ رنگ کے عمل میں اندازاً 7 ہفتے کاعرصہ درکار ہوتا ہے۔ فیکٹری ایک سال میں 12سے زائد طیاروں کی اوورہالنگ کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان طیاروں میں نئی خصوصیات شامل کرنے کے بعد یہ طیارے اب مزید 8 سال کے لیے کار آمد ہو گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…