جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

کوئٹہ میں ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کیخلاف تادم مرگ بھوک ہڑتال،آرمی چیف سے کیا مطالبہ کردیا؟

datetime 29  اپریل‬‮  2018 |

کوئٹہ(سی پی پی) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں حقوق انسانی کی کارکن جلیلہ حیدر ایڈووکیٹ نے ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف تادم مرگ بھوک ہڑتال شروع کردی،اس سلسلے میں بھوک ہڑتالی کیمپ کوئٹہ پریس کلب کے باہر قائم کیا گیا ہے۔ شرکاء نے تادم مرگ بھوک ہڑتال ان دو دکانداروں کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعے کے بعد شروع کی جن کو سینیچر کے روز شہر کے مصروف ترین علاقے جمال الدین افغانی روڈ پر فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا تھا۔

جلیلہ حیدر نے بتایا کہ ایک مرتبہ پھر گذشتہ ایک ماہ سے ہزارہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق اگرچہ بلوچستان سے جبری گمشدگیوں کے واقعات کے خلاف پہلے بھی خواتین بھوک ہڑتال کرتی رہی ہیں لیکن جلیلہ حیدر پہلی خاتون ہیں جنھوں نے تادم مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت تک بھوک ہڑتال کا سلسلہ جاری رکھیں گی جب تک پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ بذات خود یہاں نہیں آتے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹارگٹ کلنگ کی وجہ سے ہزارہ قبیلے کے دس ہزاربچے یتیم ہوچکے ہیں۔ حکمرانوں کو آنا ہو گا اور ان بچوں کو جواب دینا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ حکمرانوں کو آکر یہ بناتا ہوگا کہ ہزارہ قوم کو جنگی معیشت کی بھینٹ کیوں چڑھایا جارہا ہے۔جلیلہ حیدر کے مطابق ایک سازش کے تحت بلوچستان میں لوگوں کو تقسیم کیا جارہا ہے۔جمال الدین افغانی روڈ پر ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے دو دکانداروں کی ہلاکت کے خلاف ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے کارکنوں کے علاوہ دیگر لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے بھی قندہاری بازار اور مغربی بائی پاس پر احتجاج کیا تھا۔کوئٹہ شہر میں 30 گھنٹوں کے دوران ٹارگٹ کلنگ کا یہ دوسرا واقعہ تھا۔اس سے قبل طوغی روڈ پر نامعلوم مسلح افراد نے سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے ایک مذہبی عالم کے چھوٹے بھائی کو ایک دکان پر فائرنگ کرکے ہلاک کیا تھا۔رواں ماہ کے دوران شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افرادپر مجموعی طور پرٹارگٹ کلنگ کے چار حملے ہوئے۔ان میں سے تین واقعات میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا گیا جن میں پانچ افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…