جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

قومی اسمبلی،وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے برجستہ جملوں سے اپوزیشن ارکان کو لاجواب کردیا،شاہ محمود اور خورشید شاہ مشکل میں پڑ گئے،دلچسپ صورتحال

datetime 27  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے برجستہ جملوں سے اپوزیشن ارکان کو لاجواب کردیا۔ جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ اور شاہ محمود قریشی نے مفتاح اسماعیل کے بجٹ پیش کرنے پر اعتراض کیا۔ جس کا جواب دینے کے لئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی خود کھڑے ہوئے اور اپنی مختصر و مدلل گفتگو اور برجستہ جملوں سے اپوزیشن کو لاجواب کردیا۔

وزیراعظم نے اپوزیشن کے دباؤ میں آنے کی بجائے صاف کہہ دیا کہ بجٹ مفتاح اسماعیل ہی پیش کریں گے۔ اپوزیشن ارکان نے اس موقع پر آواز لگائی کہ صرف چار ماہ کے لئے جس پر وزیراعظم نے برجستہ کہا کہ انشاء اللہ چار مہینے بعد بھی ہم ہی ہوں گے جس پر اپوزیشن ارکان سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔ ایک موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ اگر بدقسمتی سے آپ (اپوزیشن پارٹیوں) کی حکومت آگئی تو بیشک بجٹ تبدیل کردیجئے گا۔ انہوں نے چیلنج کیا کہ میں دیکھوں گا کہ اس بجٹ میں کیا تبدیلی کر سکتے ہیں۔ اس پر پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی بھی مسکرائے بغیر نہ رہ سکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ خزانے کی وزارت میرے پاس تھی رانا افضل کو وزیر مملکت بنایا گیا تھا لیکن بجٹ پیش کرنے کی ذمہ داری مفتاح اسماعیل کو دی گئی کیونکہ انہوں نے اس پر محنت کی ہے اور وہی بجٹ پیش کریں گے۔ انہوں نے اپوزیشن ارکان سے مخاطب ہو کر کہا کہ تھوڑی سی ہمت پیدا کرکے بجٹ تقریر سنیں۔ تکلیف آپ کو ضرور ہوگی جس پر اپوزیشن سے کوئی جواب نہ بن پڑا اور قائد حزب اختلاف کی قیادت میں پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کرتے ہوئے نکل گئے۔  وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے برجستہ جملوں سے اپوزیشن ارکان کو لاجواب کردیا۔ جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ اور شاہ محمود قریشی نے مفتاح اسماعیل کے بجٹ پیش کرنے پر اعتراض کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…