جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

فوزیہ فیاض سعودی عرب میں پہلی پاکستانی خاتون سفارتکار ،جانتے ہیں ان کا تعلق کہاں سے ہے اور یہ یہاں تک کیسے پہنچیں؟

datetime 27  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن) صوبہ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والی فوزیہ فیاض واشنگٹن اور دہلی کے بعد اب جدہ میں موجود پاکستانی قونصلیٹ میں گذشتہ ایک ماہ سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں۔انگریزی ادب میں ایم اے کے بعد سنہ 2006 میں سول سروسز میں شمولیت اختیار کرنے والی فوزیہ فیاض کا کہنا ہے کہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ ایک تو یہ پہلی بار سعودیہ میں کسی خاتون کی تقرری ہے اور دوسرے یہ سرزمین

ہمارے لیے بہت مقدس ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قونصلر جنرل شہر یار اکبر نے کہا کہ یہاں حالات میں جو تبدیلی آ رہی ہے اسے مدنظر رکھتے ہوئے اور یہاں موجود پاکستانی خواتین کے مسائل کو بہتر انداز میں حل کرنے کے لیے خاتون قونصلر کو تعینات کیا جائے۔فوزیہ کا کہنا ہے کہ وہ اس تعیناتی سے قبل تین مرتبہ سعودی عرب کا نجی دورہ کر چکی ہیں۔وہاں آنے والی حالیہ تبدیلیوں خاص طور پر خواتین کو حقوق اور خود مختاری دینے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا ‘یہاں ہر سطح پر کافی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ وہاں کام کرنے والوں میں بہت زیادہ خواتین بھی آپ کو اب نظر آ رہی ہیں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ سماجی تبدیلی ابھی بہت ابتدائی مرحلے میں ہے جس پر ابھی کچھ کہنا یا ماضی سے اس کا تقابل کرنا قبل از وقت ہو گا اور کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ہی اس پر رائے دی جا سکتی ہے۔’کچھ عرصے بعد میں بہتر پوزیشن میں ہوں گی کہ اس پر رائے دے سکوں۔ سعودی عرب میں جب جون میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملے گی میرا خیال ہے اس کے بعد آپ کو سعودی معاشرے کا ایک الگ چہرہ نظر آئے گا فوزیہ کہتی ہیں کہ پاکستانی اقامہ اور دیگر کاغذات کی تجدید وقت پر کروائیں اور یا یہاں وزٹ ویزے پر آ کر مدت سے زیادہ قیام نہ کریں اور ساڑھے تین ماہ کے عرصے

میں انھیں اپنے سفارت خانے، قونصلیٹ اور اس سے باہر سعودی سماج میں بہت پذیرائی ملی اور ان کی تعیناتی پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔میں بہت ہی مثبت توقعات کے ساتھ یہاں آئی ہوں اور اب تک یہاں بہت اچھا تجربہ رہا ہے۔ سعودی عرب سے پاکستانی تارکینِ وطن کی واپسی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سعودی حکام کی جانب سے یہ فیصلہ کسی مخصوص ملک کے بسنے والوں کے لیے نہیں اور نئی تبدیلیوں اور اقدامات کے اثرات

وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آئیں گے۔وہ کہتی ہیں کہ یہاں مقیم اور یہاں آنے والے افراد کو چند بنیادی امور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ایسا نہ کرنے پر انھیں بہت مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سعودی عرب میں مقیم اور یہاں آنے والے پاکستانیوں کو اس بات کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے اقامے اور دیگر کاغذات کی تجدید وقت پر کروائیں اور یہاں وزٹ ویزے پر آ کر مدت سے زیادہ قیام نہ کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…