جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

مصر ، لیبیا ، شام ، یمن ، پاکستان اور افغانستان پر جنگیں مسلط کی گئی ،پاکستان اب دوسروں کی جنگ نہیں لڑے گا، لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ نے وضاحت کر دی

datetime 27  اپریل‬‮  2018 |

سوچی (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی امور لیفٹینینٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ نے کہا ہے کہ مصر ، لیبیا ، شام ، یمن ، پاکستان اور افغانستان پر جنگیں مسلط کی گئی ، جنگوں کی قیمت اور نقصانات کا باآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے، جنگی نقصانات کو یہ ممالک ابھی تک بھگت رہے ہیں، پاکستان کسی ملک کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گااور اب دوسروں کی جنگ نہ لڑنے کی پالیسی جاری رکھے گا۔

جمعرات کو سوچی میں سیکیورٹی امور پر اعلیٰ سطح حکام کا 9واں بین الاقوامی اجلاس ہوا ، جس میں 118ممالک کے وفود نے شرکت کی، اس اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی مشیر قومی سلامتی ناصر خان جنجوعہ نے کی ۔اجلاس سے خطاب میں مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ مصر ، لیبیا ، شام ، یمن ، پاکستان اور افغانستان پر جنگیں مسلط کی گئی ، جنگوں کی قیمت اور نقصانات کا باآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے، جنگی نقصانات کو یہ ممالک ابھی تک بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہ کشمیریوں، فلسطینیوں اور روہنگیا مسلمانوں سے زیادتی ہورہی ہے ، عالمی برادری کو کشمیریوں کی آہ وبکا اور اور چیخوں پر توجہ دینی ہوگی،پاکستان نے عالمی امن و سلامتی کے قیام میں اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ ناصر جنجوعہ نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے لاتعداد قربانیاں دی ہیں، پاکستان کسی ملک کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گااور اب دوسروں کی جنگ نہ لڑنے کی پالیسی جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمسایوں سے دوستانہ تعلقات رکھنے کا خواہش مند ہے، تنازعات کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ تمام مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی امور لیفٹینینٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ نے کہا ہے کہ مصر ، لیبیا ، شام ، یمن ، پاکستان اور افغانستان پر جنگیں مسلط کی گئی ، جنگوں کی قیمت اور نقصانات کا باآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…