جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گرد حملے کے ماسٹر مائنڈ آسیم آنند سمیت دوسرے ملزمان کی رہائی پر پاکستان کا تحفظات کا اظہار، افغان تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں، دہشت گردی ایک زہر ہے جسے معاشرے سے نکالنا ہے،ترجمان دفتر خارجہ کی بریفنگ

datetime 26  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان نے سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گرد حملے کے ماسٹر مائنڈ آسیم آنند سمیت دوسرے ملزمان کی رہائی پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اپنے عدالتی نظام کا مکمل مذاق اڑا رہا ہے ٗ بھارت کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزیوں میں مسلسل اضافہ باعث تشویش ہے ٗ افغان تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں، پاکستان امریکہ کے ساتھ مختلف سطح پر رابطے میں ہے ٗ چین کے ساتھ ہمارے تعلقات کثیر جہتی ہیں اور بھارتی وزیراعظم کے دورہ چین سے

پاک چین تعلقات پرکوئی اثر نہیں پڑے گا ٗ افغان عوام اور حکومت کی قیادت میں سیاسی بات چیت کے زریعے ہی افغانستان میں پائیدار امن قائم کیا جا سکتا ہے۔جمعرات کو دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی عدالتوں کی جانب سے مکہ مسجد بم دھماکے اور سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گرد حملے کے ماسٹر مائنڈ سمیت دیگر ملزمان کی بتدریج رہائی باعث تشویش ہے اور بھارت اس اقدام کے ذریعے اپنے عدالتی نظام کا مکمل مذاق اڑا رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ جمعرات کی صبح بھارتی فورسز نے بلاا شتعال پدھر سیکٹر کے ذیلی سیکٹرز تھب اور بنچریاں میں بھاری خودکار ہتھیاروں، مارٹرز اور ٹینک شکن گائیڈڈ میزائل فائر کئے اور براملہ گاوں کا نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں کھیتوں میں کام کرنے والے نذیر اور رفیق نامی دو بیگناہ سویلین شہید اور دو زخمی ہوئے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستانی فوج نے بھارتی فائرنگ کا موثر جواب دیا۔ترجمان نے بھارت پر زور دیا کہ وہ سیز فائر معاہدے کی پاسداری کرے۔ترجمان نے کہا کہ بھارت یو این ملٹری آبزرور گروپ کو ورکنگ باؤنڈری اور ایل او سی پر کام کرنے نہیں دیتا تاکہ وہ صورتحال کو مانیٹر نہ کر سکیں۔ ترجمان نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں امریکی سفارتکار ایلس ویز کا حالیہ دورہ پاک امریکہ مسلسل رابطوں کی

ایک کڑی تھی۔امریکی سفارتکار سے دوطرفہ تعلقات، افغان مہاجرین،کشمیر کے تنازعہ، افغانستان سے حملوں اور افغانستان کے تحفظات سمیت مختلف موضوعات پر بات چیت ہوئی تاہم ترجمان نے واضح کیا کہ امریکی سفارتکار نے پاکستان کے ایٹمی اور میزائل پروگرام کو محدود کرنے کو نہیں کہا۔ ترجمان نے کہا کہ چین کے ساتھ ہمارے تعلقات کثیر جہتی ہیں اور بھارتی وزیراعظم کے دورہ چین سے پاک چین تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف کارروائی کسی کے کہنے پر

نہیں کر رہا ٗدہشت گردی ایک زہر ہے جسے معاشرے سے نکالنا ہے، یہ ہمارے اپنے ملکی مفاد میں ہے، اس کے نتیجہ میں ملکی سیکورٹی میں بہتری آئی ہے۔افغانستان کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ افغانستان کا تنازعہ فوجی طاقت سے حل نہیں کیا جا سکتا۔گزشتہ 17 سال کے دوران فوجی آپریشنز نے افغان عوام کے مصائب میں مزید اضافہ کیا ہے۔ افغان عوام اور حکومت کی قیادت میں سیاسی بات چیت کے زریعے ہی افغانستان میں پائیدار امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ ترجمان نے ایک اورسوال کا جواب دیتے ہوئے

کہ سینٹ پیٹرز برگ کے نائب گورنر کی قیادت میں روس کا اعلی کاروباری وفد جلد پاکستان کا دورہ کریگا ۔وفد کراچی میں بزنس فورم شرکت کے علاوہ گورنر سندھ اور وزیر اعلی سندھ سے ملاقات بھی کرے گا۔ شمالی کوریا کے حوالہ سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان شمالی کوریا میں امن و استحکام اور آبنائے کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک علاقہ قرار دینے کا خواہاں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…