جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

جے آئی ٹی نے نقیب اللہ محسود قتل کیس کی تحقیقات مکمل کر لیں،خوبرو قبائلی نوجوان سمیت چاروں لڑکوں کو کس طرح قتل کیا گیا، تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے

datetime 26  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق ایس ایس پی ملیر رائو انوار قاتل قرار،نقیب اللہ قتل کیس کی جے آئی ٹی ٹیم نے رپورٹ پیش کر دی، رائو انوار اور اس کی ٹیم نے ماورائے عدالت قتل کر کے دہشتگردی کا ارتکاب کیا، رپورٹ کے مندرجات۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی جیو نیوز کی رپورٹ میں انکشاف سامنے آیا ہے کہ نقیب اللہ محسود قتل کیس کی تفتیش کرنے والے جے آئی ٹی ٹیم نے اپنی رپورٹ

میں سابق ایس ایس پی ملیر رائو انوار کو قاتل قرار دیتے ہوئے نقیب اللہ محسود سمیت چاروں نوجوانوں کو جعلی پولیس مقابلے میں مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔ سندھ پولیس کے ایڈیشنل آئی جی آفتاب پٹھان کی سربراہی میں قائم جے آئی ٹی کی تیار کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کیس کی تحقیقات کے بعد یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ نقیب اللہ محسود کے ساتھ مارے گئے چاروں نوجوانوں کو جھوٹے اور جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا ،جے آئی ٹی کو نقیب اللہ محسود اور اس کے ساتھ مارے گئے نوجوانوں میں سے کسی ایک کے خلاف بھی کوئی کریمنل ریکارڈ نہیں ملا۔جے آئی ٹی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈی این اے رپورٹ سے بھی چاروں افراد کا الگ الگ قتل ثابت ہوتا ہے، چاروں افراد کو دو الگ الگ کمروں میں قتل کیا گیا، ایک کمرے کے قالین پر دو افراد جب کہ دوسرے کمرے کے قالین پر چاروں مقتولین کے خون کے شواہد ملے جس سے ثابت ہوتا کہ چاروں افراد کو جھوٹے پولیس مقابلے میں قتل کیا گیا اور بعد میں لاشیں دو مختلف کمروں میں ڈال دی گئیں جبکہ مقتول نظر جان کے کپڑوں پر موجود گولیوں کے سوراخ کی فرانزک رپورٹ کو بھی اس تفتیش کا حصہ بنایا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مقتول نظر جان پر ایک سے پانچ فٹ کے فاصلے سے فائرنگ کی گئی،جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں ڈی پی او بہاولپور کی رپورٹ کا بھی ذکر کیا ہے۔جے آئی ٹی رپورٹ

میں کہا گیا ہے کہ راؤ انوار نے نقیب اللہ ود یگر نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کیا، راؤ انوار اور دیگر پولیس افسران کا یہ عمل دہشت گردی ہے،اس ماورائے عدالت قتل کو تحفظ دینے کے لئے انہوں نے میڈیا میں جھوٹ بولا اور اس قتل کے بعد راؤ انوار اور دیگر پولیس افسران و اہلکاروں نے شواہد ضائع کئے۔رپورٹ کے مطابق راؤ انوار اور دیگر ملزمان نے اپنے اختیارات کا بھی ناجائز استعمال کیا،

ملزمان کا مقصد اپنے دیگر غیر قانونی اقدامات کو تقویت اور دوام پہنچانا تھا،جے آئی ٹی نے رپورٹ کی تیاری میں جیو فینسنگ اور فرانز ک رپورٹ کا سہارا لیا ہے۔رپورٹ کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی نے راؤ انوار کی گرفتاری کے بعد اس کے ہمراہ بھی جائے وقوعہ کا دورہ کیا، ملزم کیس میں ملوث نہ ہونے کا کوئی ثبوت پیش نہ کرسکا جب کہ پوچھ گچھ کے دوران ملزم راؤ انوار نے تسلی بخش جواب دینے سے قاصر رہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…