جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

اسامہ کا محافظ اس وقت کہاں اور اسے ماہانہ کتنی رقم ادا کی جاتی ہے ؟حیران کن انکشاف

datetime 25  اپریل‬‮  2018 |

بر لن (آن لائن) تیونس سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جو کہ مبینہ طور پر القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کا محافظ تھا، 1997 سے جرمنی میں مقیم ہے اور اسے ویلفیئر کی مد میں ماہانہ 1168 یورو دیے جاتے ہیں۔یہ اطلاع علاقائی حکومت نے اس وقت شائع کی جب انتہائی دائیں بازو کی جماعت نے سمیع اے نامی ایک شخص کے بارے میں معلومات کی درخواست کی۔جرمن میڈیا نے سکیورٹی کے پیشِ نظر اس شخص کا مکمل نام ظاہر نہیں کیا ہے۔

اس شخص نے جہادیوں سے تعلق کی تردید کی ہے۔ اس شخص کو ملک بدر کر کے تیونس بھیجنے کو رد کر دیا گیا ہے کیونکہ خدشات ہیں کہ وہاں اس پر تشدد کیا جا سکتا ہے۔اسامہ بن لادن القاعدہ کے سربراہ تھے اور مئی 2011 میں امریکی فورسز کے آپریشن میں پاکستان میں مارے گئے۔9/11 کے حملوں میں خودکش پائلٹس میں سے کم از کم تین القاعدہ کے جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں موجود سیل کے اراکین تھے۔2005 میں انسدادِ دہشتگردی کے ایک مقدمے میں ایک گواہ کے بیان کے مطابق سمیع اے نے سنہ 2000 میں کئی ماہ تک اسامہ بن لادن کے محافظ کے طور پر افغانستان میں کام کیا۔ انھوں نے اس الزام کی تردید کی ہے تاہم جج نے گواہ کی شہادت پر یقین کیا تھا۔2006 میں سمیع اے کے القاعدہ کے ساتھ روابط کی تفتیش کی تاہم ان پر کوئی فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔سمیع اے اپنی جرمن اہلیہ اور چار بچوں کے ساتھ مغربی جرمنی کے شہر بوچم میں مقیم ہیں۔انھوں نے 1999 میں جرمنی میں رہائش کا عبوری اجازت نامہ حاصل کیا اور انھوں نے ٹیکنالوجی کے حوالے سے متعدد کورسز کیے اور 2005 میں اس شہر منتقل ہوئے۔2007 میں ان کی پناہ کی درخواست اس لیے مسترد کر دی گئی کیونکہ حکام نے انھیں سکیورٹی کے حوالے سے خطرہ قرار دیا تھا۔ انھیں ہر روز مقامی تھانے میں حاضری لگانی پڑتی ہے۔جرمن حکومت کا موقف ہے کہ مشتبہ جہادیوں کو شمالی افریقہ میں تشدد کا خطرہ ہے۔ اسی لیے تیونس اور ہمسایہ عرب ممالک میں مہاجرین کو واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔ انسانی حقوق کی یورپی کنوینشن کے مطابق تشدد پر پابندی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…