جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کیلئے پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے،مریم اورنگزیب

datetime 24  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی) وزیر مملکت اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے،پاکستان پہلا ملک ہے جہاں پارلیمنٹ میں ایس ڈی جی سیکرٹیریٹ موجود ہے،پارلیمنٹ کے کردار کے بغیر پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول ناممکن ہے،بچوں میں غذائی قلت کے مسائل کے حل کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں ،ارکان پارلیمنٹ کو پولیو اور دیگر مسائل کے حل کیلئے کردار دیا گیا ہے،مسائل کے حل کے لئے بڑے پیمانے پر آگاہی مہم کی ضرورت ہے ۔

آگاہی مہم میں میڈیا کا کردار اہم ہے،موبائل فون کے ذریعے بھی آگاہی مہم مؤثر انداز میں چلائی جا سکتی ہے۔منگل کو ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے آگاہی مہم”امید سے آگے”کی افتتاحی تقریب سے وزیر مملکت اطلاعات مریم اورنگزیب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار ترقی کے حوالے سے اہداف کا حصول اہم ہے۔ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔وڑن 2025 کے اہداف بھی پائیدار ترقی سے منسلک ہیں۔پاکستان پہلا ملک ہے جہاں پارلیمنٹ میں ایس ڈی جی سیکرٹیریٹ موجود ہے۔ترقیاتی اہداف کے حصول کیلئے پارلیمانی ٹاسک فورس بنائی گئی ہے۔پچھلے3سال میں پارلیمانی ٹاسک فورس نے کئی اقدامات اور ان پر عملدرآمد یقینی بنایا۔پارلیمانی ٹاسک فورس میں تمام جماعتوں کی نمائندگی ہے۔پارلیمنٹ کے کردار کے بغیر پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول ناممکن ہے۔بچوں میں غذائی قلت کے مسائل کے حل کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ارکان پارلیمنٹ کو پولیو اور دیگر مسائل کے حل کیلئے کردار دیا گیا ہے۔ہر رکن پارلیمنٹ کو اپنے حلقے کے مسائل سے آگاہی کا ہونا لازمی ہے۔انسداد پولیو کے سلسلے میں ارکان پارلیمنٹ کا کردار نہایت موثر رہا ہے۔ماں اور بچے کی صحت کیلئے قائم بنیادی صحت یونٹ کام کر رہے ہیں۔بنیادی مراکز صحت بڑے ہسپتالوں کے ساتھ منسلک ہیں۔مسائل کے حل کے لئے بڑے پیمانے پر آگاہی مہم کی ضرورت ہے۔آگاہی مہم میں میڈیا کا کردار اہم ہے۔آگاہی مہم کے لئے ریڈیو پاکستان اور ٹیلی ویڑن کو بھی استعمال کیا جارہا ہے۔دیہاتی علاقوں میں ماں اور بچے کی صحت کیحوالے سے آگاہی کا ہونا بہت ضروری ہے۔موبائل فون کے ذریعے بھی آگاہی مہم مؤثر انداز میں چلائی جا سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…