جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

تعلیمی اداروں پر فائرنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات،امریکہ میں طلباء سراپا احتجاج

datetime 21  اپریل‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکا کی درسگاہوں میں بڑھتے فائرنگ کے واقعات کے پیش نظر امریکا میں ہزاروں طلباء اپنی کلاسوں سے واک آوٹ کر گئے اور سراپا احتجاج بندوق سے ہونے والے تشدد کی روک تھام اور بندوق کی بے جا فروخت پر پابندی کا مطالبہ کرنے لگے۔امریکی ٹی وی کے مطابق امریکی ریاست کولاراڈو کے شہر کولمبائن کے ہائی سکول میں ہونے والی فائرنگ کے واقعے کو 19 سال بیت گئے۔

جس کی یاد میں طلباء نے کلاسیں لینے سے انکار کر دیا۔ کلاس سے نکل کرانہوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا لئے جس پر لکھا تھا’’مجھے گریڈ کے بارے میں پریشان ہونا چاہئے نا کہ بندوق سے‘‘۔امریکی میڈیا کے مطابق اسکول کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ڈھائی ہزار سے زائد اسکول اور تعلیمی اداروں کے طلباء اس احتجاج میں شریک ہوئے ،بہت سے طلباء نے نارنجی رنگ کے کپڑے پہن رکھے تھے، یہ رنگ بندوق کے خلاف تحریک کی نمائندگی کرتا ہے۔اس کے علاوہ طلباء نے 13 منٹ کی خاموشی اختیار کر تے ہوئے کولمبائن اسکول کے 13 طلباء کو خراج تحسین پیش کیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ الیکشن قریب ہیں اور ابھی ہم ووٹ کاسٹ نہیں کر سکتے ، اسی لئے اپنی آواز حکومت تک پہنچانے کے لئے ہم نے یہ طریقہ اپنایا ہے۔واضح رہے 20 اپریل 1999ء میں کولمبائن ہائی سکول میں دو 18 سالہ طالبعلموں ایرک دیوڈ ہیرس اور ڈیلن بینیٹ نے فائرنگ کرکے 13 افراد کو ہلاک اور 24 کو زخمی کردیا۔واقعے کے فورا بعد دونوں نے اپنے آپ کو گولی مار کر خود کشی کر لی تھی۔یہ واقعہ کسی بھی امریکی ہائی سکول میں ہونے والا قتل عام کا مہلک ترین واقعہ ثابت ہوا جس نے امریکی سکولوں میں بچوں کو ڈرانے دھمکانے اور چھیڑنے کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ ہتھیاروں پر پابندی اور تعلیمی اداروں کی سکیورٹی پر بھی بحث چھیڑ دی تھی۔امریکا میں فائرنگ کے خلاف طلباء کا یہ پہلا احتجاج نہیں ہے ، اس سے پہلے بھی طلباء کئی انداز میں احتجاج کر چکے ہیں۔گزشتہ ماہ فائرنگ کے بڑھتے واقعات کیخلاف انوکھا احتجاج کیا گیا ۔ یوایس کیپٹل کی عمارت کے باہر سات ہزار بچوں کے جوتے رکھ دیئے گئے تھے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…