منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

چیف جسٹس نے بھری عدالت میں ایسی بات کہہ دی کہ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے موقع پر ہی عہدے سے استعفیٰ دیدیا، وہ کام ہو گیا جو پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیںہوا

datetime 20  اپریل‬‮  2018 |

لاہور (آئی این پی) سپریم کورٹ نے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو معطل کرتے ہوئے سینئر ترین پروفیسر کو وی سی لگانے کا حکم دیدیا، عدالتی فیصلے کے بعد ڈاکٹرذکریا ذاکر نے اپنا استعفیٰ سپریم کورٹ میں پیش کردیا جبکہ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے ہیں کہ کس حیثیت میں یونیورسٹی کی 80کنال اراضی حکومت کو دی‘ آپ ہوتے کون ہیں یونیورسٹی کی اراضی حکومت کودینے والے؟‘ لوگوں کو لگایا ہی اس لیے جاتاہے کہ حکومت کے سامنے سر تسلیم خم کریں۔

ثابت ہوگیا کہ حکومت مطالبات منوانے کیلئے مستقل وی سی نہیں لگاتی‘اڑھائی سال سے مستقل وائس چانسلر کیوں تعینات نہیں کیا گیا، آگاہ کیا جائے کہ تاخیر کا ذمہ دار کون ہے؟۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پنجاب یونیورسٹی کی زمین اورنج لائن ٹرین منصوبے کو دینے کے حوالے سے کیس کی سماعت ہوئی ، اس موقع پر عدالت کو بتایا گیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے گرڈ اسٹیشن اور اورنج لائن منصوبے کیلئے حکومت کو 80 کنال اراضی دی ہے جس پر چیف جسٹس نے پنجاب یونیورسٹی کی اراضی پر حکومت کو گرڈ اسٹیشن دینے پر از خود نوٹس لے لیا۔کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پنجاب یونیورسٹی کے وی سی ڈاکٹر ذاکر زکریا کو معطل کرنے کا حکم دیتے ہوئے یونیورسٹی کے سینئر ترین پروفیسر کو وائس چانسلر لگانے کا حکم دیا اور وی سی کی تعیناتی کیلئے نئی سرچ کمیٹی کی بھی ہدایت کی، سپریم کورٹ کا حکم آنے کے بعد وی سی پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر ذاکر زکریا نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کس حیثیت میں یونیورسٹی کی اسی کنال اراضی حکومت کو دی، آپ ہوتے کون ہیں یونیورسٹی کی اراضی حکومت کودینے والے؟ لوگوں کو لگایا ہی اس لیے جاتاہے کہ حکومت کے سامنے سر تسلیم خم کریں، ثابت ہوگیا کہ حکومت اپنے مطالبات منوانے کیلئے مستقل وی سی نہیں لگاتی، ڈھائی سال سے مستقل وائس چانسلر کیوں تعینات نہیں کیا گیا، آگاہ کیا جائے کہ تاخیر کا ذمہ دار کون ہے؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…