جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

نیب کے سرگرم ہونے کے بعد اہم ترین محکمے میں برسوں کی کرپشن کا ڈراپ سین،،زیر حراست اعلیٰ افسرنے بدعنوانیوں میں ملوث افراد کے نام اگل دئیے،کھلبلی مچ گئی

datetime 20  اپریل‬‮  2018 |

کراچی (این این آئی)قومی ادارہ برائے احتساب کے سرگرم ہونے کے بعد محکمہ بلدیات میں برسوں کی کرپشن کا ڈراپ سین ہوگیا ہے۔دوران تفتیش حراست میں لئے گئے سیکریٹری بلدیات کے زیر حراست پرسنل سکریٹری نے بدعنوانیوں میں ملوث افراد کے نام اگل دئیے ہیں۔ذرائع کے مطابق نیب کی تفتیشی ٹیم نے محکمہ بلدیات میں ہونے والی لوٹ مار سے حصہ لینے اور دینے والوں کے نام حاصل کرلئے ہیں اورفہرستیں تیار کرلی گئی ہیں جس کے بعد بڑے پیمانے پر کارروائیوں کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے ۔

ذرائع کے مطابق بلدیاتی فنڈز کی لوٹ مار میں افسران،اراکین اسمبلی،منتخب بلدیاتی نمائندے اور سیاسی رہنمابھی شامل بتائے جاتے ہیں جبکہ میگا اسکینڈل میں ریٹائرمنٹ حاصل کرنے والے افسران کے نام بھی سامنےآئے ہیں جس کی روشنی میں ریٹائرڈ افسران کو بھی تحقیقات کے لئے طلب کئے جانے کا امکان ہے۔رمضان سولنگی 18سال سے سیکریٹری بلدیات کا پی اے رہا جسے تمام معاملات سنبھالنے پر بلدیات کے محکمے کی دائی بھی کہا جاتا ہے۔رمضان سولنگی کراچی سمیت سندھ کے تمام اضلاع کے افسران سے ڈیلنگ کرتا تھا۔زیادہ تر لوٹ مارترقیاتی فنڈز ،ٹرانسفر پوسٹنگ اوربوگس بھرتیوں ادائیگیوں کے نام پر کی جاتی رہی۔نیب ذرائع نے بتایا کہ افسران کی ٹرانسفر پوسٹنگ کے لئے بھی بریف کیس لینے اور حصے اوپر پہنچانے کا اعتراف زیر حراست رمضان سولنگی نے کیا ہے۔کروڑوں روپے کی ماہانہ کرپشن تسلسل سے جاری تھی جس کی تحقیات کے آغاز پر ہی 6 ضلعی حکومتوں اور ضلع کونسل میں افسران تحقیقات کے خوف کا شکار ہیں جن کی نیندیں اڑ گئی ہیں اور وہ منظر عام سے غائب ہیں ان کے موبائل فون بھی بند مل رہے ہیں۔ افسران کی اچانک غیر حاضری سے بلدیاتی امور ٹھپ ہوگئے ہیں۔ادہر نیب کی کارروائی پراہل افسران میں خوشی کی لہر پائی جاتی ہے جن کا کہنا ہے کہ رمضان سولنگی کی گرفتاری کرپشن کی گتھی سلجھانے کا اہم سرا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…