پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ میں کریک ڈاؤن ،225افراد گرفتار ،کئی پاکستانی بھی شامل،کام کیلئے آنیوالے غیر ملکیوں میں تشویش کی لہر

datetime 20  اپریل‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی)نیویارک میں امیگریشن اینڈ کسٹم انفورسمنٹ کے حکام نے گزشتہ ہفتے چھ روزہ آپریشن میں 225 تارکین وطن خصوصی طور پر مجرمانہ ریکارڈ کے حامل افراد کو گرفتار کرلیا ہے جس کی وجہ سے روزمرہ کی بنیاد پر ریسٹورینٹس، پیڑول پمپ اور دیگر مقامات پر کام کرنے والوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ تاہم حکام نے ان گرفتاریوں کو ملکی سلامتی کے لئے ناگزیر قراردیا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امیگریشن اینڈ کسٹم انفورسٹمنٹ حکام نے گزشتہ روز جاری کیے گئے ایک بیان میں کہاکہ چھ روزہ آپریشن نیویارک سٹی، لانگ آئی لینڈ اور ہڈسن ویلی میں کیا گیا۔جس میں کل 225 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ان افراد کو امریکی امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے گرفتار کیا گیا ہے۔آئی سی ای کے مطابق گرفتار 225 میں سے 180 کے خلاف بغیر لائسنس یا نشے کی حالت میں گاڑی چلانے اور دیگر مجرمانہ نوعیت کے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت تھے جبکہ 80 افراد ایسے ہیں جن کے ملک سے اخراج کے حتمی آرڈر جاری ہو چکے ہیں یا انھیں پہلے ڈپورٹ کیا جاچکا تھا لیکن وہ چھپ چھپا کر کسی طرح ملک میں واپس آ گئے تھے۔ائی سی ای کے مطابق نیویارک کے علاقے سے گرفتار کئے گئے غیر قانونی تارکین وطن کا تعلق پاکستان، اسرائیل، بنگلہ دیش، برازیل، چین، روس،جرمنی، جنوبی افریقہ، تاجکستان، ازبکستان اور ویزویلا سمیت 52 ممالک سے ہے۔ادارے کے جاری کردہ بیان کے مطابق محکمے کی جانب سے قانون کا نفاذ ایسے تارکین وطن کے خلاف یقینی بنایا جارہا ہے جو قومی سلامتی، پبلک سیفٹی اور بارڈر سیکورٹی کے لئے کسی طرح کا خطرہ بن سکتے ہیں۔تارکین وطن کے لئے کام کرنے والے قانونی ماہرین کا کہنا تھا کہ مقامی حکومتیں وفاقی حکومت کے ان اقدامات کی حمایت کرنے کی پابند نہیں ہیں۔

معروف قانون دان اور امیگریشن قانون کے ماہر سلیم رضوی کے بقول ریاستوں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر پابندی نہیں کہ وفاقی حکومت کے مقاصد کو لے کر چلیں۔ اس وقت وفاق اور مقامی حکومتوں کے درمیان ایک کھلے تصادم کی صورت حال ہے۔ بڑے شہر تارکین وطن کے حوالے سے وفاقی حکومت کی پالیسی کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ وہ سجھتے ہیں کہ وفاقی حکومت کے اقدامات انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔امریکی محکمہ امیگریشن اینڈ کسٹم انفورسمنٹ کے مطابق ایسے تارکین وطن جو ڈپورٹیشن کے باوجود بار بار ملک میں داخل ہورہے ہیں ان کے خلاف وفاقی قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…