جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کا انوکھا احتجاج،فنکشنل لیگ اور(ن) لیگ کے ممبران نے ہاتھوں میں کیا اٹھا لیا ؟

datetime 19  اپریل‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کی دو جماعتوں فنکشنل لیگ اور نواز لیگ کے ارکان نے اسمبلی کے زینے پر آبادگاروں کو درپیش مسائل کے حل کے لئے انوکھا احتجاج کیا ، ارکان نے ہاتھوں میں باردانہ (گندم کی خالی بوریاں)تھامی ہوئی تھیں ۔احتجاجی ارکان اسمبلی نے سندھ میں باردانہ کی غیر منصفانہ تقسیم پر چیف جسٹس آف پاکستان سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا ۔

جمعرات کو سندھ کے آبادگاروں کے مسائل پر فنکشنل اور ن لیگ کے ارکان باردانہ اور پلے کارڈز تھامے سندھ اسمبلی پہنچے اسمبلی کے زینے پر بوریاں رکھ کر حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اس احتجاج میں فنکشنل لیگ کی نصرت سحر عباسی ، ڈاکٹر رفیق بانبھن اور ن لیگ کے حاجی شفیع جاموٹ، سورٹھ تھیبو سمیت دئگر شریک ہوئے ارکان اسمبلی نے باردانہ دو باردانہ دو آبادگاروں کو باردانہ دو اور پرچی سسٹم ختم کرنے کے نعرے لگائے۔ ارکان نے سندھ میں باردانہ کی غیر منصفانہ تقسیم پر چیف جسٹس سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ۔مسلم لیگ فنکشنل اور مسلم لیگ نون کے ارکان اسمبلی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نصرت سحر عباسی نے کہا کہ صوبے میں پرچی سسٹم پر باردانہ دیا جارہا ہے غریب کاشتکار باردآنہ کے لئے خوار پھرتے رہتے ہیں سندھ بھر میں آبادگار باردآنہ کے لئے احتجاج کر رہے ہیں بلاول زرداری پنجاب کے کاشتکاروں کے لئے روز ٹوئٹ کرتے تھے آج بلاول زرداری کو ٹوئٹ یاد نہیں رہا ہمیں علم ہے کہ اسمبلی میں بات نہیں کرنے دی جائے گی۔ سورٹھ تھیبو نے کہا کہ بتایا جائے کہ 8 ارب کی سبسڈی کہاں جاتی ہے ۔یہ سبسڈی جیالوں کی جیب میں جاتا ہے ایک سوال کے جواب میں نصرت سحر عباسی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کاشتکاروں کی زندگی اجیرن کردی ہے بلاول بھٹو کو آج سندھ کے غریب کاشتکار یاد کیوں نہیں آرہے مراد علی شاہ کے آنے سے مسائل اور بڑھے ہیں حکومت میں سب نے فرنٹ میں رکھے ہوئے ہیں اللہ کا شکر ہے کہ اب یہ فرنٹ مین پکڑے جا رہے ہیں انشااللہ اصل مین ( لوگ) بھی جلد پکڑے جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…