بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

پاکستان میں بڑا انتشار۔۔ تقاریر پر پابندی کے بعد نواز شریف کا دھماکہ خیز ردعمل ۔۔کیا ہونے جا رہا ہے؟خطرناک انتباہ جاری کر دیا

datetime 17  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) زبان بندی والے دور اب نہیں رہے ،آپ کسی کی زبان بندی نہیں کرا سکتے،غیر مہذب پابندیوں کا نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا،یہ صورتحال رہی تو مستقبل میں بڑا انتشار دیکھ رہا ہوں، سابق وزیراعظم نواز شریف کی کمرہ عدالت میں غیر رسمی گفتگو۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف نے کمرہ عدالت میں غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کے

عدلیہ مخالف تقاریر پر نواز شریف، مریم نواز اور دیگر لیگی کارکنان کی تقاریر پر عبوری پابندی کے فیصلے پر کہا ہے کہ زبان بندی والے دور اب نہیں رہے ،آپ کسی کی زبان بندی نہیں کرا سکتے ،غیر مہذب پابندیوں کا نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا،یہ صورتحال رہی تو مستقبل میں بڑا انتشار دیکھ رہا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ کی طرف سے سے لگائی گئی پابندی کی سمجھ نہیں آ رہی ،جب سمجھ میں آئے گی تو اس پر بات کروں گا.ہم نے ملک کے لیے در گزر کیا ،چاہتاہوں سب مل کرچلیں اورابھی بھی سبق سیکھیں.زبانی بندی کی گئی کل دوسروں کی بھی باری آئے گی لیکن ہم جیتیں گے .انہوں نے مزید کہا کہ ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ سول گورنمنٹ کا تھا . جوبھی انسانی حقوق اورظلم کیخلاف بات کررہاہے ہم اس سے متفق ہیں.یہ چند لوگوں کا نہیں 22 کروڑعوام کا ملک ہے ،وزیراعظم کا عہدہ پھولوں کی سیج نہیں۔یہ صورتحال رہی تو مستقبل میں بڑا انتشار دیکھ رہا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ کی طرف سے سے لگائی گئی پابندی کی سمجھ نہیں آ رہی ،جب سمجھ میں آئے گی تو اس پر بات کروں گا.ہم نے ملک کے لیے در گزر کیا ،چاہتاہوں سب مل کرچلیں اورابھی بھی سبق سیکھیں.زبانی بندی کی گئی کل دوسروں کی بھی باری آئے گی لیکن ہم جیتیں گے .انہوں نے مزید کہا کہ ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ سول گورنمنٹ کا تھا . جوبھی انسانی حقوق اورظلم کیخلاف بات کررہاہے ہم اس سے متفق ہیں.یہ چند لوگوں کا نہیں 22 کروڑعوام کا ملک ہے ،وزیراعظم کا عہدہ پھولوں کی سیج نہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…