جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

گیسٹ ہاؤس ،ہوٹلز اور مارکیٹوں میں خواتین کی خفیہ ویڈیوبنانے کا انکشاف ،جانتے ہیں بلیک میل کرنے کے بعد ان سے کیاکام کروایا جاتا ہے؟

datetime 15  اپریل‬‮  2018 |

مظفرآباد(این این آئی)دارلحکومت مظفرآباد کے مختلف گیسٹ ہاؤس ،ہوٹلز اور مارکیٹوں میں خواتین کی خفیہ ویڈیوبنانے کا انکشاف ! ٗ جن کو باقاعدہ بلیک میل کرکے پاکستان کے مختلف شہروں میں فروخت کیا جاتا ہے جہاں پر اُن سے جسم فروشی کا دھندہ کرواکر لاکھوں روپے کمائے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آزادکشمیر سمیت مظفرآباد سے لاپتہ ہونے والی خواتین میں سے چند ایک کو بازیاب کروایا گیا ہے ، باقی کا کوئی پتہ نہیں ! ضلعی انتظامیہ

اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارگردگی سوالیہ نشان بن گئی؟۔تفصیلات کے مطابق آزادکشمیر کے مختلف شہروں کی طرح مظفرآباد کے مختلف گیسٹ ہاؤس،ہوٹلزاور مارکیٹوں میں جہاں پر مقامی اور باہر سے آنے والے مہمان جن میں ذیادہ تر نئے جوڑے ہوتے ہیں ، رہائش اختیار کرنے کے بعد اُن کو بلیک میلنگ کے سامنے سے بھی گزرنا پڑتا ہے ! ہوٹلز ، گیسٹ ہاؤس ،ریسٹ ہاؤس جہاں پھولوں کے گلدستوں میں خفیہ کیمرہ یا واش روم اور بیڈ روم میں اِس انداز سے لگائے جاتے ہیں جہاں عام آدمی کی نظر نہ پڑ سکے جبکہ اِن کو مانیٹر کرنے والا بلیک میلر گروپ خفیہ ویڈیو بناکر باقاعدہ ایسے جوڑوں کو اپنے نرغے میں پھنسا کر کمائی کا ذریعہ بنالیتے ہیں کیونکہ اُن کی بڑی وجہ آنے جانے والوں کا اندراج باقاعدہ رجسٹرمیں درج کیا جاتا ہے جس میں فون نمبر اور ایڈریس بھی لکھا ہوتا ہے جبکہ دوسری جانب مدینہ مارکیٹ سمیت دیگر گارمنٹس کاسمیٹکس سمیت دیگر بڑی بڑی دکانوں پر جہاں خواتین کی ضروریات کی عام چیز میسر ہوتی ہے وہاں خفیہ کیمروں کی مدد سے خواتین کی جو اپنی ڈریس تبدیل کرنے کیلئے سیٹنگ روم کا رخ کرتی ہے وہ بھی خفیہ کیمروں کے شکنجے میں پھنس جاتے ہیں جس کے بعد یہ سلسلہ بلیک میلنگ تک پہنچ جاتا ہے ! جہاں بھاری رقم اور عزت بھی چھین

لی جاتی ہے ، ایک سروے کے مطابق 8اکتوبر 2005ء کے زلزلے کے ایک سال بعد سے یعنی 2006ء تا2018ء تک درجنوں خواتین دارلحکومت مظفرآباد سے لاپتہ ہوئی اور بعض نے خودکشی کرلی مگر چند ایک کی واپسی کے بعد باقی خواتین کا تاحال پتہ چل سکا ، کیا اُن کو زمین کھا گئی یا کہ آسمان ؟ دوسری جانب دارلحکومت مظفرآباد میں جہاں ضلعی انتظامیہ ،پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ایک بڑی فو ج روزانہ کی سطح پر مختلف علاقوں کی ریسرچ کرتے ہیں وہاں ویڈیو مافیا کو گرفتار کرنا اُن کی بس کی با ت نہیں ، اہلیانِ مظفرآباد نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مظفرآباد سمیت دیگر مقامات کی باریکی سے چیکنگ کرکے خفیہ کیمروں کے ذریعے بلیک میل کرنے والی دکانوں ، ہوٹلوں ، گیسٹ ہاؤس،ریسٹ ہاؤس کے مالکان کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کرکے سیل کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…