جمعہ‬‮ ، 13 مارچ‬‮ 2026 

منہ زورامریکا نے برطانیہ اور فرانس کیساتھ ملکر شام پر حملہ کر دیا،کن خطرناک ہتھیاروں کا استعمال کیا جارہا ہے؟

datetime 14  اپریل‬‮  2018 |

واشنگٹن (سی پی پی )امریکا نے فرانس اور برطانیہ کے ساتھ مل کر شام پر حملوں کا آغاز کردیا گیا ہے۔ شامی حکام نے بھی حملوں کی تصدیق کردی ہے۔شام کی سرکاری خبرایجنسی کا کہنا ہے کہ شامی فضائیہ امریکا، برطانیہ اور فرانس کے حملے کا جواب دے رہی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق دمشق میں یکے بعد دیگر ے کئی دھماکے سنے گئے اور دھواں اٹھتے بھی دیکھا گیا ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناہے کہ شام میں امریکی فوجی ایکشن جاری ہے،

شام میں مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حملہ برطانیہ اورفرانس کیساتھ مل کر کیا گیا ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ شام کا کیمیائی حملہ کرنا اس کی بنیاد بنا۔ شام پر حملوں کا تسلسل برقرار رہے گا۔ صدر ٹرمپ نے ایران اور روس کو شام سے تعلقات پر انتباہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کیمیائی حملوں پرشامی حکومت اور اس کے روسی اورایرانی اتحادیوں کا احتساب کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بشارا الاسد کے مستقبل کا فیصلہ شام کے عوام کے ہاتھوں میں ہے۔اس حملہ کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم یہ جوابی کارروائی اس وقت تک جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں جب تک شامی حکومت ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال نہیں روکتی۔ انھوں شام کے صدر بشار الاسد کے بارے میں کہا کہ ‘یہ کسی انسان کا کام نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس یہ ایک عفریت کے جرائم ہیں۔ایک امریکی اہلکار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ شام میں مختلف مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے ٹوماہاک کروز میزائل کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ادھر برطانوی وزیراعظم نے بھی اپنی فوج کو شام میں حملے کی اجازت دے دی ہے۔ تھریسا مے کا کہنا ہے کہ شام پر حملوں کے سوا کوئی اور آپشن نہیں تھا۔ حملوں کا مقصد شامی حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حملوں کا مقصد شام میں حکومت کی تبدیلی ہے۔درایں اثنا فرانس کے صدر عمانوئل ماکرون نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ انھوں نے اس حملے کی منظوری اس لیے دی کیونکہ درجنوں مرد، عورتوں اور بچوں کا کیمیائی ہتھیاروں سے قتلِ عام کیا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک ریڈ لائن کراس کی گئی ہے۔دوسری جانب جرمنی کی چانسلر انگیلا مرکل کا کہنا ہے کہ جرمنی شامی حکومت کے خلاف فوجی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا

تاہم اس کی حمایت کرے گا۔ انھوں نے کہا ‘میں یہ بتانا ضروری سمجھتی ہوں کہ ابھی تک شام پر فوجی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے لیکن اگر فیصلہ ہو جاتا ہے تو جرمنی اس کا حصہ نہیں ہو گا۔’اس سے پہلے وہائٹ ہاس نے کہا تھا کہ امریکا کے پاس ثبوت ہیں کہ شام نے دوما میں کیمیائی حملہ کیا تھا۔ امریکی سفیرکا کہنا تھا کہ شام کی فوج نے کم از کم 50 بار کیمیائی ہتھیار استعمال کئے تھے۔ فرانس نے شام کے خلاف بھر پور عالمی رد عمل کا مطالبہ کیا تھا۔شام نے کہا ہے کہ امریکا اور یورپ دنیا کو جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں ۔ لبنانی تنظیم حزب اللہ کے سر براہ حسن نصراللہ کا کہنا ہے کہ شام میں اسرائیلی حملہ دراصل ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے مترادف ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…