جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

نواز شریف کے خلاف کیس کی سماعت کرنے والے اہم ترین جج تحریک انصاف کے سابق عہدیدار نکلے، نام سامنے آ گیا، حیرت انگیز انکشافات

datetime 9  اپریل‬‮  2018 |

لاہور (نیوز ڈیسک) سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے وکیل اے کے ڈوگر نے بنچ کے سربراہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عاطر محمود پر اعتراضات اٹھا دیے۔ واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف سمیت سولہ ارکان اسمبلی کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی

سماعت ہائی کورٹ لاہور میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی،  اس موقع پر میاں نواز شریف کے وکیل نے بنچ کے سربراہ پر اعتراض اٹھا دیا اور کہا کہ بنچ کے سربراہ کے بارے میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس آصف سعید کھوسہ کی ججمنٹ موجود ہے۔ سماعت کے دوران وزیراعظم کے وکیل اے کے ڈوگر اور جسٹس مظاہر نقوی کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔ جسٹس مظاہر نے وکیل صفائی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ ہمیں انگریزی پڑھانے آئے ہیں، آپ نے یہ کیا کام شروع کردیا ہے، کیا یہ قانونی دلائل ہیں۔ نوازشریف کے وکیل کو عدالت نے قانونی نکات سے ہٹ کر دلائل دینے سے روک دیا، تین رکنی بنچ کے سربراہ نے وکیل صفائی سے کہاکہ ڈوگر صاحب، آپ سینئر وکیل ہیں، آپ بات کر رہے ہیں تو کسی اور کو بولنے کی اجازت نہیں ہے، اس وقت ہمارے سامنے جو درخواست ہے اس میں آپ کو نوٹس نہیں کیا گیا لیکن آپ گھر بیٹھے سب سمجھ چکے ہیں۔ نواز شریف کے وکیل اے کے ڈوگر نے بنچ کے رکن جسٹس عاطر محمود کے بارے میں بھی اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ تحریک انصاف کے سیکرٹری فنانس رہ چکے ہیں، یاد رہے کہ اس سے قبل بھی نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کے کیسز میں وکلاء کے اعتراضات کی وجہ سے بینچز ٹوٹ چکے ہیں۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے وکیل اے کے ڈوگر نے بنچ کے سربراہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عاطر محمود پر اعتراضات اٹھا دیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…