جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

نگران سیٹ اپ ، نوازشریف نے وزیر اعظم سے ہونیوالی بات چیت کے بارے میں سب کچھ بتا دیا،کیاہونے جارہا ہے؟

datetime 9  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی) سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہاہے کہ جو باتیں عمران خان اور آصف زرداری کہہ رہے ہیں بدقسمتی سے وہیں باتیں چیف جسٹس کی زبان سے بھی نکلتی ہیں۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ عجیب سی صورتحال دیکھ رہے ہیں، کہا جارہا ہے کہ پنجاب کی کارکردگی زبوں حالی کا شکار ہے، یہ منطق سمجھ نہیں آتی، اس طرح کی بات کر کے پارٹی بننا قابل قبول نہیں ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان کی صورتحال سے عوام واقف ہیں، ایک عام آدمی بھی بتا دیگا کہ سب سے بہتر کارکردگی پنجاب کی ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ انتخابات قریب ہیں اور الیکشن لڑنے کے لیے مواقع نہ دیے جانے کی صورت حال ہورہی ہے، کسی جماعت کو کھلی چھٹی اور کسی کو بند گلی میں دھکیلا جارہا ہے، جو کچھ ہو رہا ہے وہ قبل از وقت دھاندلی ہے، اگر یہ کچھ ہوگا تو ملک میں شفاف انتخابات کو بھول جائیں۔انہوں نے کہا کہ پلیئنگ فیلڈ سب کے لیے ہونی چاہیے، انتخابات کو کیوں آگے لے جایا جائے اور کون ہے جو اس طرح کی سوچ رکھتا ہے۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ جوڈیشل مارشل لا پر یقین نہیں رکھتے لیکن اس کا عملی مظاہرہ سامنے آنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس پر تحفظات ہیں، ہمارے سینیٹرز کے ساتھ جو سلوک ہوا، یہ ان باتوں کی نفی کرتی ہیں جو چیف جسٹس کہتے ہیں اور بدقسمتی ہے کہ چیف جسٹس کی زبان سے بھی وہی باتیں نکلتی ہیں جو عمران خان یا آصف زرداری کہہ رہے ہیں۔ اس سے قبل کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کے دوران نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاناما کیسز کے باعث پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے روپے کی قدر میں کمی ہوئی اور روپے میں کمی سے ملکی قرضے کھربوں روپے بڑھ چکے ہیں

جو بہت افسوس ناک ہے۔نگراں حکومت کے حوالے سے نواز شریف نے کہا کہ صرف اتنا ہی بتا سکتا ہوں کہ وزیراعظم سے نگراں حکومت کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا ملکی معیشت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ نیو اسلام آباد ائیرپورٹ کا منصوبہ کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچا۔ ایک سوال پر نواز شریف نے کہا کہ وکیل سے مشورہ کروں گا کہ عدالت کی براہ راست کارروائی کے لئے درخواست دائر ہوسکتی ہے یا نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…