بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

ادویات قیمتوں سے متعلق کیس،چیف جسٹس نے سیکریٹری صحت سے15 مئی تک مکمل رپورٹ طلب کر لی

datetime 6  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی ) چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ادویات کی قیمتوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سیکریٹری صحت سے مئی کے پہلے ہفتے میں اس معاملے پر مکمل رپورٹ طلب کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا کہ خواہش ہے جو معاملات اٹھائے ہیں ختم کرکے جا ئو ں ورنہ بعد میں نعرے لگاتے پھریں گے کہ باتیں کرکے چلا گیا اور کیا کچھ نہیں،15 مئی کو رات دن بھی بیٹھنا پڑا معاملہ پورا سن کر اٹھیں گے۔

جن معاملات میں ہاتھ ڈالا ہے، انہیں یہیں حل کریں گے ،ٹیکس لگانے یا ہٹانے کا فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہے، ٹیکس کا معاملہ عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ جمعہ کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے ادویات کی قیمتوں سے متعلق کیس کی سماعت کی اور اس سلسلے میں سیکریٹری صحت سمیت دیگر حکام عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر عدالت نے وزارت صحت کے حکام سے قیمتوں میں کمی سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کی جس پر سیکریٹری صحت نے عبوری رپورٹ عدالت میں پیش کی۔چیف جسٹس نے سیکریٹری صحت کو حکم دیا کہ مئی کے پہلے ہفتے میں اس معاملے پر مکمل رپورٹ دے دیں، تفصیلی رپورٹ کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مفادعامہ کے جن معاملات میں ہاتھ ڈالا ہے، انہیں یہیں حل کریں گے، 15 مئی کو رات دن بھی بیٹھنا پڑا معاملہ پورا سن کر اٹھیں گے، واضح کردوں کہ کوئی التوا نہیں دیا جائے گا۔دوران سماعت شہری جاوید اوکھائی نے عدالت سے کہا کہ فارماسیوٹیکل انڈسٹری مختلف ٹیکسز کی مد میں 25 ارب روپے ادا کرتی ہے، ٹیکسز کا بوجھ عام عوام پر پڑتا ہے، میں نے تمام حکومتوں کو کہا کہ ادویات پر ٹیکسز ختم کیے جائیں، ٹیکسز دوسرے لگژری آئٹم پر لگا کرادویات پر ریلیف دیا جائے۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کیکہنیکا مطلب ہے فارماسیوٹیکل انڈسٹری کوٹیکس فری قرار دیا جائے ۔

شہری نے کہا جی ایسا ہی ہے۔جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ٹیکس لگانے یا ہٹانے کا فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہے، ٹیکس کا معاملہ عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، عدالت نے پہلے سے بنائے گئے قوانین کے مطابق معاملات کودیکھنا ہے، آپ اگر اس معاملے پر کوئی مہم چلارہے ہیں تو پارلیمنٹیرین سے رابطہ کریں۔اس موقع پر فارما بیورو کے وکیل نے عدالت سے کیس کی دوسری تاریخ مقرر کرنے کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ میں آپ سے زیادہ جلدی میں ہوں، میری خواہش ہے جو معاملات اٹھائے ہیں ختم کرکے جا ئو ں، بعد میں آپ نعرے لگاتے پھریں گے کہ باتیں کرکے چلا گیا،کیا کچھ نہیں۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 15 مئی تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…