منگل‬‮ ، 23 جون‬‮ 2026 

الیکشن کا التواء اورجوڈیشل یا کسی اور مارشل لاء کا نفاذ،اگر ایسا ہوا تو کیا کروں گا؟چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بڑا اعلان کردیا

datetime 5  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ جوڈیشل یا کسی اور مارشل لا کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں جبکہ اب وہ وقت نہیں کہ ہم یہ غلاظت اور گندگی اپنے ماتھے پر لگائیں،ملک میں جوڈیشل مارشل لا ء کی باتیں کرنے والے بد گمانی پھیلا رہے ہیں،اگر ایسا ہوا تو میں اسے اپنی بھرپور طاقت سے روکنے کی کوشش کروں گا اور اگر ایسا نہیں کر پایا تو گھر چلا جاؤں گا۔ ان خیالات کا اظہارا نہوں نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن بلڈنگ میں عاصمہ جہانگیر ہال اور

آڈیٹوریم کی تقریب کے موقع خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ چیف جسٹس نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن بلڈنگ سے سپرہم کورٹ جانے والی سڑک کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔اس موقع پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران سمیت وکلا ء کی بڑی تعداد موجود تھی۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ الیکشن کے التوا ء سے متعلق بات کی گئی، یہ وقت اس معاملے پر بات کرنے کا نہیں لیکن بات نہیں کروں گا تو اس کا کچھ مطلب نکال لیا جائے گا۔چیف جسٹس نے واضح کیا کہ آئین میں سب کچھ لکھا ہے، الیکشن کے التوا ء کی آئین میں گنجائش نہیں ہے اور میرے ہوتے آئین سے انحراف نہیں ہوگا، آئین کے مطابق الیکشن وقت پر ہی ہوں گے۔انہوں نے کہا کہجوڈیشل مارشل لا ء کا ذکر ہورہا ہے، جوڈیشل یا کسی اور مارشل لا کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں اور اگر ایسا کچھ ہوا تو اسے اپنی پوری طاقت سے روکنے کی کوشش کروں گا ،مجھ میں بطور چیف جسٹس کسی مارشل لا کو معطل کرنے کی طاقت نہ ہوئی تو بوریا بستر لے کر چلا جاؤں گالیکن اس مارشل لا کی توثیق نہیں کروں گا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے واضح کیا کہ عدالتی مارشل لا ء کا آئین میں کوئی تصور ہی موجود نہیں اور اس طرح کی باتیں کرنے والے بدگمانی پھیلارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈیزائن یا منصوبے کے مطابق یہ افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں تاہم ہم جوڈیشل مارشل لا کی غلاظت منہ پر مل کر نہیں جانا چاہتے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے واضح کیا کہ اس ملک میں جمہوریت ہوگی اور آئین کی بالادستی قائم رہے گی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جوڈیشل مارشل لا ء یا ٹیک اوور کی باتیں لفظی سوچ ہیں، اس کے بارے میں ہنسی آسکتی ہے، ہم خدمت کرنے اور انصاف کرنے کے لئے بیٹھے ہیں، آپ مطمئن رہیں، کسی کا بھروسہ نہیں توڑوں گا۔جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا کہ کچھ لوگ جوڈیشل مارشل لا ء کی افواہیں اور بدگمانی پھیلارہے ہیں، بار کی ڈیوٹی ہے یہ بتائیں کہ یہ سب کسی ڈیزائن کے تحت افوائیں اڑائی جارہی ہیں۔معزز چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اب وہ وقت نہیں ہم یہ غلاظت اور گندگی اپنے ماتھے پر لگائیں،

ملک میں صرف جمہوریت اور آئین کی پاسداری ہوگی، قوم سے وعدہ ہے آئین کے ایک حرف پر بھی آنچ نہیں آنے دیں گے، اگر یہ نہیں کر پایا تو چیف جسٹس پاکستان کے عہدے پر رہنے کا مجاز نہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے معروف وکیل عاصمہ جہانگیر کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بہادر خاتون تھیں۔انہوں نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر قابل تھیں یا نہیں تھیں، انہیں قانون کتنا آتا تھا کتنا نہیں آتا تھا اس بات کو چھوڑ دیں لیکن حق اور سچ کی آواز پر

انہوں نے ہمیشہ لبیک کہا اور ایسے معاملات میں ہمیشہ سب سے آگے ہوتی تھیں۔انہوں نے ایک بار گلہ کیا کہ ریلیف نہیں دیتے، وہ بہن کے طور پر مجھے مشورے بھی دیتی تھیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ روایتی الفاظ نہیں کہیں گے کہ عاصمہ جہانگیر کا خلا ء پر نہیں ہوسکتا، بلکہ سنجیدگی کے ساتھ کہنا چاہیں گے کہ عاصمہ جیسی خاتوں دوبارہ آنے میں بہت دیر لگ جائے گی،

کیونکہ ان جیسی خاتون ابھی تک پیدا ہو ہی نہیں پائی۔بعد ازاں وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل کامران مرتضی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عاصمہ جہانگیر ایسی شخصیت تھیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ جس طرح وہ مظلوموں کی آواز بنی تھیں اسی طرح ان کی یاد میں آج اس آڈیٹوریم کو ان کے نام سے منسوب کردیا گیا ہے۔



کالم



فورنگ میں ایک رات


ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…