جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

شناختی کارڈ نمبر کو ٹیکس نمبر بنا دیا گیا‘ دو فیصد ٹیکس ادا کرکے لوگ اب بیرون ملک سے اپنے اثاثے پاکستان لا سکتے ہیں،فیصلہ اگر حلف سے ہی ہونا ہے تو پھر میاں نواز شریف کو بھی یہ حلف دینا ہوگا کہ لندن کے تینوں فلیٹس ان کی ملکیت نہیں ہیں،جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 5  اپریل‬‮  2018 |

وزیراعظم نے آج ایک بہت اچھی ٹیکس امیونٹی سکیم کا اعلان کیا‘ ٹیکس کی بلند ترین شرح تیس سے کم کرکے پندرہ فیصد کر دی گئی‘ لاکھ روپے ماہانہ آمدنی والے لوگوں کو ٹیکس فری کر دیا گیا‘ شناختی کارڈ نمبر کو ٹیکس نمبر بنا دیا گیا‘ دو فیصد ٹیکس ادا کرکے لوگ اب بیرون ملک سے اپنے اثاثے پاکستان لا سکتے ہیں اور پراپرٹی پر بھی ٹیکس ایک فیصد کر دیا گیا‘ یہ سکیم حقیقتاً بہت اچھی ہے‘  عوام کو بھی ۔۔اس کا فائدہ ہو گا اور ملک میں ٹیکس دینے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گا‘

ہم حکومت کو اس شاندار سکیم پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں‘ وزیراعظم نے سکیم کی لانچنگ کے دوران چند سیاسی باتیں بھی کیں۔ مجھے وزیراعظم کے ان خیالات پر اعتراض ہے‘ ملک میں اگر فیصلہ حلف سے ہونا ہے تو پھر میاں نواز شریف کو بھی آئی جے آئی ‘ آئی ایس آئی سے رقم نہ لینے‘ جمہوری حکومتوں کے خلاف سازشیں نہ کرنے‘ میمو گیٹ سکینڈل میں فوج کا ساتھ نہ دینے‘ ہارس ٹریڈنگ نہ کرنے اور چھانگا مانگا‘ منی لانڈرنگ اور کک بیکس نہ لینے کا حلف دینا ہوگا‘ فیصلہ اگر حلف سے ہی ہونا ہے تو پھر میاں نواز شریف کو بھی یہ حلف دینا ہوگا کہ لندن کے تینوں فلیٹس 1993ء سے ان کی ملکیت نہیں ہیں اور یہ حقیقتاً ان کے صاحبزادوں کی کمائی ہیں‘ پھر کیپٹن صفدر کو بھی یہ حلف دینا ہوگا کہ یہ لندن میں اپنے بیٹے کی فیس اپنی جیب سے ادا کرتے تھے اور مریم نواز کو بھی یہ حلف اٹھانا ہوگا کہ یہ شریف فیملی کی کسی جائیداد کی بینی فیشل اونر نہیں ہیں‘ اگر فیصلہ حلف ہی سے ہونا ہے تو پھر صرف چیئرمین سینٹ اور سینیٹرز ہی کیوں؟ آپ تمام سیاسی الزامات کا فیصلہ حلف سے کیوں نہیں کرتے‘ دوسرا وزیراعظم ‘ وزیراعظم ہوتا ہے‘ اس کی کوئی حرکت نجی نہیں ہوتی‘ ہم اگر وزیراعظم کا آرگومنٹ مان لیں تو پھر یہ نجی دورے میں کسی کلب میں بھی چلے جاتے یقیناً اس سے بھی ان کی کوئی بے عزتی نہیں ہونی تھی۔ آج چیف جسٹس نے بھی مارشل لاء اور الیکشن بروقت کرانے بارے فرمایا۔ اس اعلان سے گورنمنٹ کو مطمئن ہو جانا چاہیے اور تحریک لبیک یارسول اللہ کے لاہور کے دھرنے کو چار دن ہو گئے‘ حکومت ان کے مطالبات کو سیریس کیوں نہیں لے رہی‘ ہم آج ان تمام موضوعات پر گفتگو کریں گے اور وزیرداخلہ احسن اقبال ہمارے مہمان ہوں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…