جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

’’چھوٹے مسئلوں میں نہیں پڑوں گا‘‘ مجھے سانپ کاٹتا تھا کہتا تھا یہ کہہ دیا وہ کہہ دیا ،ایک سال کیلئے کوشش کی ہے کہ ۔۔۔چیف جسٹس دوران سماعت کیا کچھ کہہ گئے

datetime 5  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ میں میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میں نے اپنے اندر سے سانپ مار دیا ہے بہت مسئلے حل ہوئے ہیں، سانپ کاٹتا تھا کہتا تھا یہ کہہ دیا وہ کہہ دیا ایک سال کے لیے کوشش کی ہے اس سانپ کو نکال دیا ۔ جمعرات کے روز میڈیا کمیشن کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیس

کی مزید سماعت پیر کو کر لیں گے ابھی یہ بتائیں ترمیم کیا تجویز کی ہے ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پیمرا کا سیکشن 5 آڑٹیکل 19 سے مطابق رکھیں گے سینئر صحافی حامد میر نے عدالت کو بتایا کہ کل حکومت کو بتا دیا تھا میری کسی سے لڑائی نہیں ہے جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا آپ سمجھتے ہیں کہ عدلیہ کی لڑائی ہے تو حامد میر نے کہاآپ کی تو بالکل لڑائی ہو ہی نہیں سکتی ہے پر چیف جسٹس نے کہاآپ حکومت کو صرف اپنابتا رہے ہیں ابصار عالم نے عدالت کو بتایا کہ چھبیس چینلز میں سے چھ اینکر کا ایشو ہے جھگڑا ہمیشہ کوڈ آف کنڈکٹ پر ہوتا ہے کہا گیا ابصار عالم نے کالے قوانین کا مسودہ کمیٹیوں کو دیا اینکرز کو 30سال کی سزا تجویز کی، کیا میری کوئی عزت نہیں ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم کیا کہہ سکتے ہیں آپکی برادری نے کیا خود بات کریں، چھوٹے مسئلوں میں نہیں پڑیں گے یں نے اپنے اندر سے سانپ مار دیا بہت مسئلہ حل ہوے سانپ کاٹتا تھا کہتا تھا یہ کہہ دیا وہ کہہ دیاایک سال کے لیے کوشش کی ہے اس سانپ کو نکال دیابعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…