اسلام آباد(این این آئی) سپریم کورٹ نے سرکاری اشتہارات سے متعلق کیس میں حکم دیا ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر کسی بھی سرکاری اشتہار میں سیاسی قائد کی تصویر شائع نہ کی جائے، اشتہار کس نے دینا اور کتنا دینا یہ معاملہ بھی زیر سماعت ہے، ہم نے شفاف انتخابات کرانے کے لیے سرکاری اشتہارات میں خود نمائی پر پابندی لگائی۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سرکاری اشتہارات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ اس دوران سینئر صحافی اور
آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے صدر حمید ہارون اور کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز کے ضیا شاہد، اسد کھرل بھی پیش ہوئے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ تصویروں کے ساتھ اپنی تشہیر کرنا مناسب نہیں ہے، یہ قوم کا پیسہ ہے اسے قوم کے پاس ہی رہنا چاہیے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ عوامی پیسہ ہے، اس سے خودنمائی نہیں ہونی چاہیے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پالیسی یا نعروں کی تشہیر نہیں ہونی چاہیے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس اور حمید ہارون کے درمیان مکالمہ بھی ہوا، جسٹس میاں ثاقب نثار نے پوچھا کہ کیا حکومت جس طرح خود نمائشی اشتہارات دے رہی ہے کیا وہ ٹھیک ہے؟ اس پر حمید ہارون نے کہا کہ ہم اس کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کرسکتے، عدالت قانون کے مطابق جو فیصلہ کرے گی اے پی این ایس کو قبول ہوگا۔دوران سماعت ضیا شاہد نے عدالت کے سامنے اپنا موقف بتاتے ہوئے کہا کہ سرکاری خرچ پر خود نمائی نہیں ہونی چاہیے، سی پی این ای چیف جسٹس کی مکمل حمایت کرتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ وزرا ء کے علاوہ ان کے رشتہ داروں کے ماضی میں اشتہارات چھپتے رہے لیکن ادائیگیاں نہیں کی جاتی۔ اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ حکومت اشتہارات چھپوا کر ادائیگیاں کیوں نہیں کر رہی، جس پر ضیا شاہد نے بتایا کہ اشتہاری کمپنیوں میں ڈان پیدا ہوچکے ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ 3 ماہ میں 90 کروڑ کے اشتہارات دئیے گئے، یہ آپ کا کاروبار ہے اس کے بغیر آپ کا چینل اور اخبار بے معنی ہوجائے گا۔سماعت کے دوران ضیا شاہد نے بتایا کہ وزیر اطلاعات سندھ اشتہارات پر خرد برد پر جیل میں ہیں جبکہ ایک سال میں 25 چیکس 6 کروڑ روپے کے بنتے ہیں لیکن ان کی ادائیگیاں نہیں کی گئی۔اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اشتہار کس نے دینا اور کتنا دینا یہ معاملہ بھی زیر سماعت ہے، ہم نے شفاف انتخابات کرانے کے لیے
سرکاری اشتہارات میں خود نمائی پر پابندی لگائی۔چیف جسٹس نے کہا کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر سرکاری اشتہارات میں کوئی تصویر نہیں چھاپی جائے گی، کوئی بھی سیاسی قائد کی تصویر کسی اشتہار میں شائع نہ ہو۔اس موقع پر صحافی اسد کھرل نے بتایا کہ وفاقی اور خیبرپختونخواہ حکومت اشتہارات کے حوالے سے گائید لائن پر عمل کر رہی ہے لیکن دیگر صوبے اس پر عمل نہیں کر رہے۔



















































