اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)2008میں ایک نیپالی خاتون جس کا نام گنگنا مایا ہے گھریلو خادمہ کے طور پر سعودی عرب لائی گئی تھی۔شروع شروع میں تو اس کا کفیل اسے تھوڑی بہت تنخوہ دیتا رہا لیکن پھر بالکل ہی کچھ دینا بند کر دیا۔ اس نے گنگنا مایا کا فون بھی چھین لیا اور10 سال کی ملازمت کے دوران اسے ایک بار بھی گھر نہیں جانے دیا۔ حال ہی میں جب کفیل اس کے پاسپورٹ کی تجدید کے لئے اسے نیپالی قونصل خانے لے کر گیا تو
ایک اہلکار نے حیرت کے ساتھ خاتون سے پوچھا کہ وہ گزشتہ دس سال کے دوران ایک بار بھی نیپال نہیں گئی اور وجہ جاننا چاہی۔ اس موقع پر گنگنا مایا پھوٹ پھوٹ کر روپڑی اور اپنی حالت زار اس اہلکار کے سامنے بیان کر دی۔اس مظلوم خادمہ پر ہونے والے ظلم کے متعلق جان کر نیپالی قونصل خانہ حرکت میں آ گیا اور اس کی مدد کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔ قونصل خانے کی کوششوں سے ہی اس کے کفیل نے روکی ہوئی تمام اجرت بھی ادا کر دی۔ یہ رقم ملتے ہی گنگنا مایا نے بتایا کہ اس کی ہمیشہ یہ خواہش رہی تھی کہ وہ اپنے ہاتھ سے کچھ خیرات کرے لہٰذا وہ سب سے پہلے اپنی دو ماہ کی تنخواہ بطور خیرات کسی ضرورت مند کو دینا چاہتی ہے۔ اس خاتون کے جذبہ ایثار کو دیکھ کر اس کی مدد کرنے والوں کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔لیکن ابھی اس خاتون کی مشکلات کم نہیں ہوئی تھیں ۔نیپال میں اس کا والد اور خاوند اس کی راہ تکتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ زلزلے میں اس کا گھر بھی تباہ ہو چکا ہے اور اب ایک بے سہارا بیٹی اس کی منتطر ہے۔ باہمت خاتون کا کہنا تھا کہ وہ نیپال جا کر اپنا گھر دوبارہ بنائے گی اور اپنی بیٹی کی شادی کریگی۔واضح رہے کہ نیپال سے کثیر تعداد میں خواتین خادمائیں سعودی عرب آکر کام کر رہی ہیں۔



















































