جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

’’ کالا باغ ڈیم کیس ! سپریم کورٹ کا بڑا ایکشن ‘‘ چیف جسٹس نے15دن میں کیا کرنے کا حکم جاری کر دیا ؟ اعلیٰ حکام کی دوڑیں لگوا دیں

datetime 2  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق موجودہ صورتحال میں حکومت نے پانی کی فراہمی کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنا ہے جبکہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کے معاملے پر صوبوں میں اتفاق موجود نہیں، مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوا، سابق چیئرمین واپڈا نے کالا باغ ڈیم پر آگاہی مہم شروع کی انہیں نکال دیا گیا۔

پیر کو سپریم کورٹ نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق ریفرنڈم کرانے کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی، یہ سماعت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ اس کیس میں سپریم کورٹ نے وفاق کو نوٹس جاری کر دیا اور کہا کہ وفاقی حکومت کالاباغ ڈیم سے متعلق جواب جمع کروائے، درخواست گزار نے کہا کہ 2025میں زمین میں پانی کا لیول ختم ہو جائے گا، ملک میں پانی کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈیمز بننے چاہئیں، کالاباغ ڈیم کے معاملے پر صوبوں میں اتفاق موجود نہیں ہے مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ سابق چیئرمین واپڈا نے کالا باغ ڈیم پر آگاہی مہم شروع کی، اس چیئرمین واپڈا کو نکال دیا گیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت نے یہ فیصلہ کرنا ہے اور پانی کی فراہمی کو دیکھنا ہے، درخواست گزار نے کہا کہ اگر نام کا مسئلہ ہے تو کالا باغ ڈیم کی جگہ بے نظیر بھٹو ڈیم رکھ لیا جائے، یہ ڈیم پاکستان کا مستقبل ہے، سپریم کورٹ نے اس کیس کی سماعت 15روز کیلئے ملتوی کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…