ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

ایون فیلڈ ریفرنس،گلف اسٹیل کے شیئرز فروخت سے متعلق تفتیش نہیں کی، واجد ضیا

datetime 2  اپریل‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(آئی این پی ) شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا نے احتساب عدالت میں سماعت کے دوران قاپنے بیان میں کہا ہے کہ گلف اسٹیل کے شیئرز فروخت سے متعلق تفتیش نہیں کی،جے آئی ٹی رپورٹ کا والیم یاد نہیں لیکن اس کا جواب درج تھا،جو دستاویزات دی گئیں اس کے علاوہ جے آئی ٹی کی تفتیش میں اس کی تصدیق نہیں کی،گلف اسٹیل مل کی بزنس ٹرانزیکشن کے حوالے سے کوئی چیز سامنے نہیں آئی۔

پیر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر)محمد صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت جس کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف 50ویں مرتبہ احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا سے سوال کیا کہ ‘1978 میں گلف اسٹیل کے 75 فیصد شیئرز فروخت ہوئے اور گلف اسٹیل کا نام فروخت کے بعد آہلی اسٹیل مل ہوا، کیا آپ نے اپنی تفتیش میں ان معاملات کی تصدیق کی۔واجد ضیا نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں اس کا جواب دے دیا تھا، جے آئی ٹی رپورٹ کا والیم یاد نہیں لیکن اس کا جواب درج تھا۔جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ میرا سوال ابھی بھی وہی ہے کیا آپ نے معاہدے کے مندرجات کی تصدیق کی تھی یا نہیں جس پر واجد ضیا نے کہا جو دستاویزات دی گئیں اس کے علاوہ جے آئی ٹی کی تفتیش میں اس کی تصدیق نہیں کی۔خواجہ حارث نے سوال کیا کہ کیا آپ نے تفتیش کی کہ گلف اسٹیل مل قائم بھی ہوئی تھی یا نہیں جس پر فاضل جج نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوال پوچھا جاچکا ہے۔خواجہ حارث نے ایک اور سوال کیا کہ آپ نے تفتیش کی تھی کہ 1978 تا 1980 گلف اسٹیل مل کی بزنس ٹرانزیکشن ہوئی جس پر واضد ضیا نے کہا ہم نے طارق شفیع سے پوچھا تھا لیکن کوئی ایسی چیز سامنے نہیں آئی۔

واجد ضیا نے مزید بتایا کہ ہم نے دبئی اتھارٹیز کو ایم ایل اے کے تحت لکھا کہ گلف اسٹیل مل کی تفصیلات دیں لیکن جواب نہیں آیا۔خواجہ حارث نے سوال کیا کہ کیا آپ نے گلف اسٹیل مل بنانے والے کسی شراکت دار یا فروخت کنندہ سے رابطہ کیا جس پر واجد ضیا نے کہا ہم نے شہباز شریف اور طارق شفیع سے پوچھ گچھ کے لیے رابطہ کیا تھا اور ان کے سوا کسی سے رابطہ نہیں کیا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…