پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کا آئندہ بجٹ میں خام مال کی ڈیوٹی کم کرنے کا فیصلہ

datetime 24  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2018-2017 کے بجٹ میں خام مال کی ڈیوٹی کو کم کرکے اس کے نرخ میں کمی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے اگرخام مال کی ڈیوٹی میں کمی کی گئی تو آمدن پر 15 ارب پورے سالانہ کا فرق پڑے گا۔ خیال رہے کہ وفاقی حکومت رواں برس 27 اپریل کو آئندہ مالی سال کے بجٹ کا اعلان کرے گی ۔

تاہم کامرس ڈویژن کے ترجمان محمد اشرف نے کہا کہ اسٹیک ہولڈرز کا ردِ عمل جاننے کے لیے بجٹ تجاویز کو منظر عام پر لایا جائے گا۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 2015 میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خام مال پر ایک فیصد ڈیوٹی عائد کی تھی جو آئندہ 2 برسوں میں بڑھ کر 3 فیصد تک ہوگئی تھی۔ تجارت کے لیے ڈالر کے بجائے یوآن: حقائق کیا ہیں؟ اس وقت ملک میں کچھ ایسے خام مال بھی ہیں جو تقریباً 20 فیصد تک ڈیوٹی دیتے ہیں۔حکومتی منصوبے کے مطابق کامرس ڈویژن نے تقریباً 200 ٹیرف لائنز پر ڈیوٹی کو 20 فیصد سے کم کرکے  16 فیصد، 32 پر 16 فیصد سے کم کرکے 11 فیصد، 49 پر 11 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد، 28 پر 11 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد جبکہ 4 ٹیرف لائنز پر ڈیوٹی کو 11 فیصد سے کم کر کے 3 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی۔ کامرس ڈویژن کی جانب سے 151 ٹیرف لائنز کی ڈیوٹی کو 3 فیصد سے بالکل ختم کرنے جبکہ 51 ٹیرف لائنز جن پر اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹ لاگو ہے، پر سے ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز پیش کی۔ محمد اشرف کا کہنا تھا کہ مذکورہ تمام ٹیرف لائنز کا انتخاب اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد کیا گیا تھا۔ امریکی تاجر پاکستان میں سرمایہ کاری کے خواہش مند، سروے رپورٹ کامرس ڈویژن کی جانب سے ایک منصوبہ شروع کیا ہے جس میں درآمدات پر ڈیوٹی کو کم کیا جائے خصوصی طور پر ان اشیا پر جو چین کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) میں آتی ہیں۔

ادھر فیڈرل بیورو آف ریونیو (ایف بی آر) اور بورڈ آف انویسٹمنٹ نے اس منصوبے کو سیاسی اقدام قرار دیا اور اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یک طرفہ رعایت نہ صرف ملکی محصولات کو روک دے گی، بلکہ اس سے خصوصی اقتصادی زون کے تحت چین کو اپنی صنعت پاکستان منتقل کرنے کی تجویز کی بھی نفی ہوگی۔ واضح رہے کہ کامرس ڈویژن اس وقت اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر اسٹریٹجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک 23-2018 کی تیاری میں مصروف ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…