اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں آپریشن کے بعد جس لاش کی تصاویر جاری کی گئی تھیں وہ اسامہ بن لادن کی لاش نہیں تھی، امریکی فوجی اہلکار نے بھانڈہ پھوڑ دیا، کیا اسامہ بن لادن زندہ ہیں؟ چونکا دینے والے انکشافات

datetime 18  مارچ‬‮  2018 |

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں آپریشن کے بعد جس لاش کی تصاویر جاری کی گئی تھیں وہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی لاش نہیں تھی، اس بات کا انکشاف امریکی نیوی سیل رابرٹ اونیل نے ایک اخبار کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں کیا،

انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اسامہ کی لاش کی جاری شدہ تصاویر جعلی ہیں۔ رابرٹ اونیل نے اپنے انٹرویو میں 11 مئی 2011ء کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں مارے گئے امریکہ کو مطلوب ترین شخص اسامہ بن لادن کی کھوج لگانے اور انہیں مارنے میں اپنے کردار سے متعلق آگاہ کیا۔ اپنے انٹرویو میں فوجی اہلکار نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اسامہ بن لادن کی لاش کی جو تصاویر جاری کی گئی تھیں وہ جعلی تھیں، انہوں نے کہا کہ دنیا کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے پینٹاگان کو اسامہ بن لادن کی اصل لاش کی تصاویر جاری کرنی چاہئیں۔ رابرٹ اونیل نے کہا کہ جب اس نے اسامہ بن لادن کو گولی ماری تو ان کا سر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا اور اس کے بعد ان کی لاش کی جو تصاویر جاری کی گئیں وہ اصلی نہیں تھیں۔ امریکی فوجی اہلکار نے کہا کہ یہ باتیں اپنی کتاب میں نہیں لکھ سکا اس لیے انٹرویو کے ذریعے بتا رہا ہوں۔ رابرٹ اونیل کا کہناہے کہ اسامہ بن لادن کو گولی مارنے کے بعد پینٹکس کیمرے سے 20 تصاویر لی گئیں جو واشنگٹن کو جاری کرنی چاہئیں۔ انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ اسامہ بن لادن کو گولی مارتے وقت اسے ذرا بھر خوف محسوس نہیں ہوا اور وہ اس دوران بالکل پرسکون تھے اور وہ اس بات پر خوش تھے کہ وہ اس تاریخی لمحے کا حصہ بن رہے ہیں۔ پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں آپریشن کے بعد جس لاش کی تصاویر جاری کی گئی تھیں وہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی لاش نہیں تھی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…