ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

سینٹ میں ہماری شکست یقینی تھی کیونکہ ارکان اسمبلی کو کون سا کام کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں، مشاہد اللہ خان کے انکشافات، نیا تنازعہ کھڑا کر دیا

datetime 16  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹر مشاہد اللہ خان کا کہنا ہے کہ سینیٹ شکست یقینی تھی کیونکہ کافی عرصے سے اس کی کوشش کی جا رہی تھی، انہوں نے کہا کہ لوگوں کو دھمکیاں دی گئیں اور پیسے کا بے دریغ استعمال کیا گیا، ہم نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے رضا ربانی کی بات کی لیکن پیپلز پارٹی نے اسے چھوڑ کر ایک ایسے شخص کو سینیٹ کا چیئرمین بنا دیا جس کی کوئی شناخت ہی نہیں ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان گزشتہ روز گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اندازہ تھا کہ سینیٹ انتخابات میں پیسے کا استعمال ہوگا لیکن اس دفعہ لوگوں کے کیسز کھولنے کی دھمکیاں دی گئیں اور پیسے کا بے تحاشا اور کھلے عام استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے رضا ربانی کا نام چیئرمین سینیٹ کے لئے اس لئے مناسب سمجھا کہ ہم سینیٹ اور جمہوریت کی مضبوطی چاہتے تھے لیکن پیپلزپارٹی نے اسے ٹھکرا دیا اور ایک ایسے شخص کا انتخاب کیا جس کی کوئی شناخت نہیں۔ پیپلزپارٹی کا اس کے بعد جمہوریت کے ساتھ کیا رشتہ رہ جاتا ہے،موجودہ قیادت نے پیپلزپارٹی کو دفنا دیا ہے۔ سینیٹر مشاہد اللہ نے کہا کہ زرداری اور عمران خان ایک دوسرے کو گالیاں دیتے تھے لیکن سینیٹ الیکشن میں گٹھ جوڑ سامنے آ گیا۔ سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ اب پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف والے کریڈٹ لے رہے ہیں لیکن اصل کریڈٹ جن کو ملنا چاہیے وہ تو نظر ہی نہیں آتے، عمران خان نے یہ کہہ کر دھوکہ دینے کی کوشش کی کہ انہوں نے سنجرانی کو سپورٹ کیا ہے اور وہ زرداری کو سپورٹ نہیں کرنا چاہتے حالانکہ انہوں نے سلیم مانڈوی والا کو بھی سپورٹ کیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں کہ مولانا فضل الرحمان کی جماعت نے ہمیں سپورٹ نہیں کیا۔  انہوں نے کہا کہ سینیٹ شکست یقینی تھی کیونکہ کافی عرصے سے اس کی کوشش کی جا رہی تھی، انہوں نے کہا کہ لوگوں کو دھمکیاں دی گئیں اور پیسے کا بے دریغ استعمال کیا گیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…