جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ریفرنس ، واجد ضیاکا بیان ریکارڈ،ثبوت کتنے صندوقوں میں اٹھا کر لائے

datetime 16  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (سی پی پی)شریف خاندان کے خلاف احتساب عدالت میں ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ریفرنس کی سماعت کے دوران استغاثہ کے گواہ واجد ضیا نے قطری شہزادے کا خط، التوفیق کمپنی اور حدیبیہ پیپر ملز کے درمیان باہمی معاہدے کا مسودہ، حدیبیہ پیپر ملز کے ڈائریکٹر کی رپورٹ، لندن فلیٹ سے متعلق نیلسن اورنیسکول کمپنی کی لینڈ رجسٹری اور کومبرکمپنی کی دستاویزات عدالت میں پیش کردیں۔ مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے اعتراض اٹھایا

کہ جو دستاویزات پیش کی جارہی ہیں وہ قانون شہادت کے مطابق نہیں ہیں، پتا نہیں دستاویزات کہاں سے اٹھاکر لے آئے ، جس پر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے انہیں مخاطب کرکے کہا کہ آپ تبصرہ نہ کریں۔اسلام آباد کی احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ اپارٹمنٹس سے متعلق نیب ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت نواز شریف اور مریم نواز عدالت میں پیش ہوئے اور پہلے 2 گھنٹے تک عدالت میں موجود رہے جس کے بعد انہیں جانے کی اجازت دے دی گئی ۔ جمعہ کی سماعت میں استغاثہ کے گواہ اور پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کا بیان دوسرے روز بھی ریکارڈ کیا گیا، وہ 4 باکسز میں دستاویزات اپنے ساتھ لے کر احتساب عدالت میں پیش ہوئے تھے۔استغاثہ کے گواہ پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا نے قطری شہزادے حمدبن جاسم کے 6 جولائی کا اصل خط سر بمہرلفافے میں احتساب عدالت میں پیش کیا۔ مریم نوازکے وکیل امجد پرویز نے اعتراض اٹھایا کہ واجد ضیا اب کوئی دوسرا خط پیش کر رہے ہیں۔ خواجہ حارث نے کہا ریکارڈ پر لے آئیں کہ کل جمع کرایا گیا خط اس سے مختلف ہے۔ جس پر واجد ضیا نے کہا کہ یہ وہ خط نہیں جس کی کاپی کل انہوں نے پیش کی بلکہ انہوں نے آج سپریم کورٹ سے لا کر یہ خط پیش کیا ہے جبکہ کل والا

خط دفتر خارجہ سے فیکس کے ذریعے موصول ہوا تھا اور آج والا خط رجسٹرار سپریم کورٹ سے موصول ہواہے۔ عدالت نے آج کے خط کی نقل وکیل صفائی کو دینے کا حکم دے دیا۔دوران سماعت واجد ضیا نے التوفیق کمپنی اور حدیبیہ پیپر ملز کے درمیان باہمی معاہدے کا مسودہ عدالت میں پیش کیا جس پر مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے اعتراض اٹھایا کہ یہ ڈرافٹ قانون شہادت پرپورانہیں اترتا جبکہ یہ تصدیق شدہ بھی نہیں ہے۔

واجد ضیا نے کہا کہ انہوں نے یہ دستاویزات نیب سے حاصل کیں۔واجد ضیا کی طرف سے حدیبیہ پیپر ملز کے ڈائریکٹر کی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی گئی جس پر مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ یہ رپورٹ غیر متعلقہ اور نا قابل تسلیم ہے۔ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اعتراض اٹھایا کہ پیش کی گئی دستاویزات فوٹوکاپی سے کاپی کرائی گئی ہیں جبکہ دستاویزات تصدیق شدہ بھی نہیں ہیں۔ واجد ضیا نے کہا کہ یہ رپورٹ سپریم کرٹ میں جمع کی گئی متفرق درخواستوں کے ساتھ بھی موجود تھی۔لندن فلیٹ سے متعلق نیلسن اورنیسکول کمپنی کی لینڈ رجسٹری عدالت میں پیش کی گئی اور انہیں عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنادیاگیااس کے علاوہ کومبرکمپنی کی دستاویزات بھی عدالت میں پیش کی گئیں جن پر مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے انہیں بھی غیر متعلقہ قرار دیا اور کہا کہ ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی دستاویزات کی کاپی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…