جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

آبپارہ میں حساس ادارے کے باہر سڑک کی بندش ،چیف جسٹس نے نوٹس لے لیا ،بڑا حکم جاری

datetime 15  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن)چیف جسٹس نے وفاقی دارالحکومت کے علاقے آبپارہ میں حساس ادارے کے باہر سڑک کی بندش کا نوٹس لیتے ہوئے سی ڈی اے سے آج جمعہ کو رپورٹ طلب کر لی ہے، چیف جسٹس نے حکم دیا کہ بتایا جائے سڑک کس قانون کے تحت کس نے بند کی، سکیورٹی کے نام پر سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔جمعرات کے روز چیف جسٹس نے یہ نوٹس میریٹ اور سرینا ہوٹل کے سامنے سڑک کی بندش سے متعلق کیس

کی سماعت کے دوران لیا ہے ، کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سیکورٹی کے نام پر سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ، جہاں سکیورٹی خدشات ہیں وہاں سکیورٹی بڑھائی جائے، قانون سب کیلیے برابر ہے، میریٹ ہوٹل کے وکیل نعیم بخاری نے موقف اختیار کیا کہ میریٹ ہوٹل کے باہر سے تجاوزات ہٹانے سے پہلے ہمیں سنا نہیں گیا،تو چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے سڑکیں اور راستے کھلوانے ہیں، آبپارہ پہنچ چکے ہیں، آپ ابھی میریٹ میں بیٹھے ہیں، نعیم بخاری نے کہا کہ دہشت گردی ختم نہیں ہوئی، تو چیف جسٹس نے کہا کہ اللہ خیر کرے گا دہشت گردی ختم ہو رہی ہے دوران سماعت ایک وکیل نے استدعا کی کہ راولپنڈی کینٹ میں بھی کئی سڑکیں بند ہیں،اس معاملے کو بھی دیکھا جائے، تو چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ایک درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر دیں اس معاملے کو بھی دیکھ لیں گے،بعد ازاں عدالت آبپارہ میں حساس ادارے کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے سڑک کی بندش کا نوٹس لیتے ہوئے سی ڈی سے رپورٹ طلب کر لی اور حکم دیا کہ بتایا جاے سڑک کس قانون کے تحت کس نے بند کی سی ڈی بتائے ادارے نے خود کتنی تجاوزات کر رکھی ہیں، سی ڈی کا کام تجاوزات ختم کرنا ہے نا کہ تجاوزات کرنا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…