اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

ملالہ یوسف زئی اس وقت کہاں اور کیا کر رہی ہے ،غیر ملکی خبر رساں ادارہسب کچھ سامنے لے آیا

datetime 13  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی) دنیا کی کم عمر ترین نوبل انعام یافتہ اور تعلیم سے متعلق کام کرنے والی ملالہ یوسف زئی ان دنوں پناہ گزینوں کے مسائل پر کتاب لکھنے میں مصروف ہیں۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ملالہ یوسف زئی پناہ گزینوں کے معاملے پر وی آر ڈسپلیسڈ نامی کتاب لکھنے میں مصروف ہیں۔ملالہ کی یہ کتاب رواں برس ستمبر تک شائع ہونے کا امکان ہے، اس کتاب میں نوبل انعام یافتہ پناہ گزینوں کے مسائل اور مشکلات بیان کریں گی۔

اس کتاب میں ملالہ یوسف زئی اپنی ابتدائی زندگی کے حقیقی واقعات بھی پیش کریں گی۔20 سالہ ملالہ یوسف زئی اپنی اس کتاب میں دنیا کے دیگر ممالک کے پناہ گزینوں کے مسائل کو بھی اجاگر کریں گی۔واضح رہے کہ ملالہ یوسف زئی کو 2012 میں سوات میں اسکول سے واپسی پر حملہ کرکے زخمی کردیا گیا تھا، اس وقت ان کی عمر صرف 15 برس تھی، انھیں خواتین کو تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے آواز اٹھانے پر نشانہ بنایا گیا تھا۔ملالہ یوسف زئی کو ابتدائی طور پر پاکستان میں ہی طبی امداد دی گئی تھی تاہم بعد میں انھیں برطانیہ کے ہسپتال میں منتقل کردیا گیا تھا۔انہیں 2014 میں بچوں کی تعلیم کے لیے مہم چلانے پر ہندوستان کے کیلاش ستھیارتھی کے ساتھ مشترکہ طور پر نوبیل امن انعام سے نوازا گیا تھا۔ملالہ یوسف زئی اعزازی طور پر کینیڈا کی شہریت حاصل کرنے والی چھٹی شخصیت ہیں جنہیں نوبیل پرائز کے علاوہ ورلڈ چلڈرن پرائز جیسے ایوارڈ سے بھی نوازا جاچکا ہے۔گذشتہ ماہ سترہ اگست کو ملالہ یوسف زئی برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لینے میں کامیاب ہوئی ہیں جہاں وہ سیاست، فلسفہ اور معاشیات کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔خیال رہے کہ یہ ملالہ یوسف زئی کی دوسری کتاب جو وہ خود لکھ رہی ہیں، اس سے قبل انہوں نے تصویری کہانی پر مبنی کتاب ملالہ میجک پینسل لکھی۔اس سے قبل 2013 میں ان کی بائیوگرافی کتاب آئی ایم ملالہ: دی گرل ہو اسٹڈ یو سامنے آئی، جس میں انہوں نے کتاب کی لکھاری کرسٹینا لمبا کا ساتھ دیا، تاہم وہ کتاب تنہا ملالہ نے نہیں لکھی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…