اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

دبئی پولیس کا اسمگلروں کے خلاف مصنوعی ذہانت کے استعمال پر غور

datetime 12  مارچ‬‮  2018 |

دبئی(این این آئی)دبئی پولیس اور دبئی کسٹمز نے اپنے پہلے مشترکہ فورم میں متحدہ عر ب امارات میں زمینی ، سمندری اور فضائی راستے سے اسمگلروں کی آمد روکنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے پر غور کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق دبئی پولیس کے تحت محکمہ برائے تنظیمات تحفظ سکیورٹی اور ایمرجنسی کے ڈائریکٹر بریگیڈئیر عبداللہ علی الغیثی نے کہا کہ وہ بندر گاہوں ، ہوائی اڈوں اور زمینی راستوں کے ذریعے غیر قانونی اشیاء کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر غور کرر ہے ہیں۔

ان دونوں محکموں کے حکام کا کہنا تھا کہ وہ منشیات کے اسمگلروں کی خفیہ جگہوں کا سراغ لگانے کے لیے اعلیٰ ٹیکنالوجی کے حامل آلات استعمال کررہے ہیں کیونکہ وہ ریچھ نما بچہ کھلونوں اور اپنے جسموں کو منشیات کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔حتیٰ کہ وہ باداموں کے ذریعے بھی منشیات اسمگل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔حکام کے مطابق ان کے استعمال میں آنے والا جدید ترین سکیورٹی پروگرام الارم کلاک ہے۔یہ متحدہ عرب امارات کے تمام ہوائی اڈوں پر فعال ہے۔اس کے ذریعے سامان میں موجود تمام اشیاء کا فوری طور پر سراغ لگایا جاسکتا ہے۔انھوں نے مزید بتایا کہ ہوائی اڈوں پر جدید ٹیکنالوجی کے حامل اسیکنر بھی نصب کر دیے گئے ہیں۔ان کے ذریعے انسانی جسم میں بیرونی عناصر کا فوری سراغ لگایا جاسکتا ہے۔محکمہ ائیر پورٹ سکیورٹی کے ڈائریکٹر مروان سنجا نے فورم میں بتا یا کہ ان کے انسپکٹروں نے ایسے لوگوں کو بھی پکڑا ہے جنھوں نے اپنے سفری بیگز کے پہیوں میں منشیات چھپا رکھی تھیں۔اس کے علاوہ جاسوس کتوں کو چکما دینے کے لیے دوسری اشیاء میں بھی منشیات چھپائی گئی تھیں۔ان کے بہ قول اسمگلر مٹھائیوں میں بھی حشیش ملا کر لے آتے ہیں یا انھوں نے چاکلیٹ میں ہیر وئین یا کوکین چھپائی ہوتی ہے۔فورم میں دبئی پولیس کے تحت محکمہ انسداد منشیات کے ڈائریکٹر کرنل ایوب حسن مفتاح نے اسمگلروں کی منشیات کو چھپانے کی کارروائیوں اور دھوکا دہی کے لیے راستے تبدیل کرنے کی تفصیل بتائی اور کہا کہ اسمگلر اکثر حکام کو دھوکا دینے کے لیے عین درمیان میں اپنا راستہ تبدیل کر لیتے ہیں۔انھوں نے مزید بتا یا کہ حالیہ مہینوں کے دوران میں انسداد منشیات کی کارروائیوں کے دوران میں 16 ممالک سے تعلق رکھنے والے 54 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور یہ سب دبئی پولیس کے ان ممالک کے حکام سے روابط کے نتیجے میں ممکن ہوا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…