اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

بیرون ملک پاکستانی قید ی قانونی مدد سے محروم

datetime 8  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی )سول سوسائٹی کے گروپ جسٹس پروجیکٹ پاکستان (جے پی پی) کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ بیرون ملک قید پاکستانی قیدیوں کو قانونی مدد کی فراہمی تک میسر نہیں۔جسٹس پروجیکٹ پاکستان کے تحت ’جال میں پھنس گیا‘ کے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ میں سعودی عرب میں قید پاکستانی شہریوں کی حالت زار سے متعلق دستاویزات پیش کی گئیں۔

رپورٹ میں اس چیز کی نشاندہی کی گئی کہ غیر محفوظ قیدی نا مناسب عمل کا سامنا کررہے ہیں اور بغیر کسی فرد جرم اور ٹرائل کے کافی عرصے سے قید ہیں اور انہیں کوئی قانونی مدد کی فراہمی تک میسر نہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کی جانب سے اعتراف جرم پر دستخط کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق دوسری بڑی تارکین وطن کی کمیونٹی کے طور پاکستان کے 26 لاکھ شہری تارکین وطن ہیں، جن میں سے زیادہ تر سعودی عرب میں کام کرتے ہیں۔ تاہم جے پی پی کی جانب سے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ کسی دوسری غیر ملکی قوم کے مقابلے میں وہاں ہر سال پاکستانیوں کو زیادہ پھانسی دی جاتی ہے ،رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا کہ اکتوبر 2014 سے اب تک 66 پاکستانی شہریوں کو پھانسی دی گئی جبکہ 2 ہزار 795 قید میں ہیں۔اس رپورٹ پر ارکان اسمبلی نے وزارت خارجہ اور پاکستانی مشنز کی جانب سے سعودی عرب میں جیلوں میں پاکستانی قیدیوں کو قانونی نمائندگی فراہم کرنے میں ناکامی پر افسوس کا اظہار کیا۔بیرون ملک پاکستانی قیدیوں کی حالت زار پر سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سعودی عرب کے مجرمانہ انصاف کے نظام کی خامیوں پر نظر ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکومتی اداروں کی جانب سے بہت کم ہی پاکستانی قیدیوں کو جواب موصول ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ایک یا اس سے زائد وزارتوں میں ایسا سیل ہونا چاہیے جو بیرون ملک پاکستانی قیدیوں کے معاملات کی جانچ پڑتال کرسکے۔

انہوں نے تجویز دی کہ تمام غیر ملکی تارکین وطن کے حوالے سے اعداد و شمار مرتب کرنے چاہئیں اور کیسز یا اعتراف جرم کے حوالے سے روزانہ کی بنیادوں پر اپ ڈیٹ کرنا چاہیے۔تقریب سے خطاب کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی ا?ئی) کی رہنما اور رکن اسمبلی شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ دفتر خارجہ کی جانب سے ایک عالمی قونصلر تحفظ کی پالیسی ہونی چاہیے۔

اور اس کے ساتھ ساتھ دو طرفہ مذاکراتی معاہدے بھی ہونے چاہیے جو سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانی شہریوں کو ان کی سزائیں ان کے ممالک میں کاٹنے کی اجازت دے سکے۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کی سینیٹر سحر کامران کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں پاکستانیوں سے کمیونٹی ویلفیئر فنڈ اکھٹا کرنا چاہیے جسے ان قیدیوں کی قانونی نمائندگی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…