اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

شام میں خون کی ہولی،فورسز کی مشرقی غوطہ میں بمباری، مزید 70 افراد ہلاک ٗ16روز میں ہلاکتوں کی تعداد میں ہولناک اضافہ،روس کا دھماکہ خیز اعلان

datetime 6  مارچ‬‮  2018 |

دمشق (این این آئی)شام کے علاقے مشرقی غوطہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عروج پر پہنچ گئیں ٗ شامی مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے گزشتہ شب سے کی جانے والی بمباری میں مزید 70 افراد ہلاک ہوگئے جس کے بعد 16 روز میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 700سے تجاوز کر گئی۔عربی نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کے شامی مبصرین کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کے امدادی قافلے مشرقی غوطہ میں موجود رہائشیوں کو امداد کی فراہمی میں ناکام ہوئے ہیں ۔

انہوں نے گزشتہ شام سے جاری شدید بمباری پر اس دن کو اب تک کا ’خونی دن‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بمباری میں مزید 70 افراد ہلاک ہوئے اور شام کی سرکاری فورسز کی جانب سے مسلسل بمباری جاری رہی۔خیال رہے کہ شام کی سرکاری فورسز کو روس کی حمایت حاصل ہے اور وہ دمشق سے ملحقہ باغیوں کے زیر اثر علاقے مشرقی غوطہ میں مسلسل 16 روز سے بمباری جاری رکھے ہوئے ہیں ٗاس دوران اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی جانب سے 30 روزہ جنگ بندی کی قرارداد بھی منظور کی گئی تھی جبکہ روس نے بھی 5 گھٹنے کیلئے عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا لیکن ان دونوں پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔دوسری جانب مشرقی غوطہ کے مکینوں کی جانب سے 5 گھنٹوں کی عارضی جنگ بندی پر شک و شبہات کا اظہار کیا گیا تھا کیونکہ اس عمل کا مقصد وہاں کے لوگوں کو انسانی حقوق کا راستہ فراہم کرنا تھا اور یہاں امدادی قافلوں کی رسائی دینی تھی لیکن اس عارضی جنگ بندی کے دوران بھی شامی فورسز کی جانب سے فضائی حملوں میں شہریوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا تاہم اس فضائی مہم کے جاری رہنے کے باوجود گزشتہ روز تقریباً ایک ماہ بعد پہلی مرتبہ ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی ، شامی عرب ریڈ کریسنٹ اور اقوام متحدہ کی جانب سے 46 ٹرکروں کو سرکاری زیر اثر چوکیوں سے گزار کر متاثرہ علاقے تک پہنچایا گیا

تاہم امدادی رضاکاروں کا کہنا تھا کہ اس سامان میں سے زیادہ تر شام کی فورسز نے ضبط کرلیا تھا اس بارے میں شام کی سول ڈیفنس کے ترجمان محمد ادم کا کہنا تھا کہ اس امدادی قافلے میں شام کی فورسز کی بمباری سے زخمی ہونے والے افراد کے لیے انتہائی ضروری طبی سامان اور خوراک موجود تھی اور انہیں متاثرہ علاقوں تک پہنچانے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم 9 ٹرکوں کو سامان اتارنے سے روک دیا گیا۔واضح رہے کہ ان امدادی قافلوں میں سرجیکل سپلائیز اور ادویات سمیت 5 ہزار 500 ا?ٹے اور دیگر کھانے کے سامان کی بوریاں موجود تھیں جو تقریباً 27 ہزار 500 لوگوں کی خوراک کیلئے کافی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…