جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

بلاسودقرض اسکیم، کسانوں کوسولرٹیوب ویل دینے کی سفارش

datetime 28  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی) وزارت فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کی جانب سے ملک بھر کے کسانوں میں بلاسود قرض اسکیم کے تحت 30ہزار سولر ٹیوب ویل کی فراہمی کے منصوبے کے لیے سمری وزیر اعظم کو بھجوا دی گئی ہے۔ دستاویز کے مطابق وفاقی حکومت نے زراعت میں جدت کو فروغ دینے کے مقصد سے کسانوں کو سولر ٹیوب ویل کی تنصیب کے لیے بلاسود قرض دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔

اس پروگرام کے تحت ملک بھر میں تقریبا 30 ہزار کے قریب سولر ٹیوب ویل کسانوں کو دیے جائیں گے جس پر مجموعی طو ر پر 5 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد لاگت آئے گی، پنجاب میں 20 ہزار، خیبرپختونخوا 1ہزار100، بلوچستان 4ہزار 272، فاٹا 304، آزاد کشمیر 150، اسلام آباد میں 104سولر ٹیو ب ویل نصب کیے جائیں گے، اس منصوبے کے لیے وزارت غذائی تحفظ و تحقیق نے حکومت سے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں1کروڑ 69 لاکھ روپے مانگ لیے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ان سولر ٹیوب ویلوں کی تنصیب کے لیے ان اضلاع کا تعین کیا جائے گا جن میں زیر زمین پانی کی سطح 100فٹ ہو گی اس مقصد کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے سروے کرایا جائے گا اور جہاں موزوں جگہ ملی ان اضلاع میں حکومت کسانوں کو شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل کے لیے بلاسود قرضے دے گی تاہم اس اسکیم سے مستفید ہونے کے لیے ڈرپ ایری گیشن کو ضروری قرار دیاگیا ہے۔جس کا مقصد ملک بھر میں آبپاشی کے لیے استعمال ہونے والے پانی کو محفوظ کرنا بھی ہے، اس سکیم کے لیے وفاقی وزارت غذائی تحفظ و تحقیق کے اعلی حکام نے گزشتہ دنوں صوبائی حکومتوں سے بھی ایک اجلاس کر لیا ہے تاہم ٹیوب ویل کی تنصیب کے لیے بلا سود قرضے کی اس سکیم کے لیے اصول کا تعین وزیر اعظم کی منظوری سے ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…