بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

عمران خان اورخیبرپختونخوا حکومت کے امن و امان کے حوالے سے دعوئوں کی قلعی کھل گئی۔۔بھتہ وصولی میں پشاور ، کراچی کے برابر تاجروں نے شہر رینجرز کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر دیا

datetime 28  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)’’گو عمران گو‘‘پشاور کے تاجر سڑکوں پر نکل آئے، شدید نعرے بازی، پشاور شہر کو رینجرز کے حوالے کرنے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی پشاور آمد کے موقع پر پشاور کے تاجر سراپا احتجاج بن گئے اور سڑکوں پر نکل آئے۔ پشاور کی تاجر برادری نے عمران خان کی آمد کے موقع پر ان کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے

’’گو عمران گو‘‘کے نعرے لگاتے ہوئے پشاور شہر کو رینجرز کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کے روز چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اندرون شہر پشاور کی تاریخی عمارات کا دورہ کرنے کیلئے جب پشاور شہر پہنچے تو اس موقع پر بھتہ خوری اور عدم تحفظ کا شکار پشاور کے تاجر سڑکوں پر نکل آئے جنہوں نے ہاتھوں میں بینرز پکڑ رکھے تھے اور ’’گو عمران گو‘‘کے نعرے لگا رہے تھے۔ تاجروں کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخواہ حکومت تاجروں کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اس لئے پشاور شہر کو رینجرز کے حوالے کیا جائے۔ تاجروں کے احتجاج کے باعث عمران خان اندرون شہر پشاور کا دورہ بھی نہیں کر سکے۔پشاور کے تاجر نعرے لگاتے ہوئے عمران خان کے دورے کے مقام کے نزدیک پہنچے،اس موقع پر تاجر نعرےلگا رہے تھے کہ ’’ہمیں تحفظ دو۔۔یا حکومت چھوڑ دو‘‘۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی امن و امان کے حوالے سے مختلف مواقعوں پر خیبرپختونخواہ کے عوام عدم اطمینان کا اظہار کر چکے ہیں جبکہ تحریک انصاف کی خیبرپختونخواہ حکومت اور عمران خان صوبے میں امن و امان کے حوالے سے بلند و بانگ دعوے کرتے رہے ہیں۔ عمران خان مختلف مواقعوں پر اس بات کا متعدد بار اظہار کر چکے ہیں کہ ان کی جماعت کی حکومت نے امن و امان کے حوالے سے

صورتحال کو اپنے اقدامات سے بہتر کیا ہے اور صوبے میں امان و امان کی صورتحال پہلے کی نسبت کہیں بہتر ہے مگرگزشتہ ہفتے جمعرات کے روز تاجروں کی جانب سے احتجاج نے خیبرپختونخواہ حکومت اور عمران خان کے امان و امان کے حوالے سے دعوئوں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ پشاور شہر کے تاجروں نے بھتہ وصولی کا انکشاف کرتے ہوئے عدم تحفظ پر عمران خان کی آمد کے موقع پر شدید احتجاج کیا تھا۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…