اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

شام میں جاری خانہ جنگی اور بیگناہ شہریوں کے قتل عام پر علی ظفر ،شاہد آفریدی ،ماورا حسین کا شدید ردعمل،بڑا مطالبہ کردیا

datetime 27  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) شام میں جاری خانہ جنگی اور بیگناہ شہریوں کے قتل عام پر پاکستانی و بھارتی شوبز شخصیات نے بھی آواز بلند کرتے ہوئے معصوم شہریوں کے قتل وغارت کو بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق شام کے معصوم شہریوں پر ہونیوالے ظلم و ستم کیخلاف متعدد نامور اسٹارز نے سوشل میڈیا پر اپنے غم و غصہ کا اظہار کیاہے۔پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان نے اپنے ایک ٹوئٹ میں غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے شام میں جاری بربریت کو بے حسی قرار دیا ہے۔

پاکستانی گلوکار واداکار علی ظفر نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں شام میں جاری خانہ جنگی پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانیت کو جاگنے کی ضرورت ہے۔معروف کرکٹر شاہد آفریدی نے اپنے ٹوئٹ میں مطالبہ کیا کہ شام کے علاقے غوطہ میں ہونے والی قتل و غارت گری کو فوری طور پر روکا جائے اور معصوم بچوں اور لوگوں کی جان بچائی جائے۔بھارتی اداکارنواز الدین صدیقی نے شام کے شہر غوطہ میں جاری وحشیانہ بمباری کی مذمت کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹر پیغام میں ملبے میں دبے شامی بچے کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے مشہور ادیب جان اسٹین بیک کا قول لکھا کہ ’ساری جنگیں اس چیز کی نشانی ہے کہ انسانوں نے جانوروں کی طرح سوچنا شروع کردیا ہے‘۔بھارتی اداکارہ ایشا گپتا نے اپنے ٹوئٹ میں شام کے علاقے غوطہ میں ہونیوالی بربریت کو سیاہ دور قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ’یہ وہ دور ہے جہاں انسانیت کیلئے بھی سرحد دیکھی جاتی ہے، جہاں بچوں کیلئے بھی مذہب دیکھا جاتا ہے اور یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے‘۔پاکستان کے مشہور کامیڈی اداکار احمد علی بٹ نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں اظہار افسوس کرتے ہوئے ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’400 سے زائد لوگ ہلاک ہوگئے لیکن اب بھی سب خاموش ہیں، ہمیں ایک دن اس کا حساب دینا ہوگا‘۔ پاکستانی اداکارہ ماورا حسین نے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ ’ہم کیا بن چکے ہیں؟ ،شام میں پھول جیسے معصوم بچوں کو بے دردی سے قتل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ معصوم لوگوں کو اس ظلم سے بچایا جائے۔واضح رہے کہ شام میں باغیوں کے زیرِ قبضہ قصبہ غوطہ میں گزشتہ ایک ہفتے سے شامی حکومت کی جانب سے شدید بمباری کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں اب تک 500 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں معصوم بچوں کی بھی کثیر تعداد شامل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…