اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

پی آئی اے ہیڈ آفس سے 4 انتہائی اہم لیپ ٹاپ چوری،ان لیپ ٹاپس میں کس قسم کی حساس معلومات تھیں؟ اور چور ی کی رپورٹ کیوں درج نہیں کرائی جارہی؟چونکادینے والے انکشافات

datetime 27  فروری‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی میں پی آئی اے ہیڈ آفس سے شعبہ فنانس کے 4 انتہائی اہمیت کے حامل لیپ ٹاپ چوری کرلیے گئے ہیں۔یہ لیپ ٹاپ ڈپٹی جنرل منیجر اکاونٹنگ ، انجینئرنگ فنانس اور آڈٹ ڈپارٹمنٹ سے چوری کیے گئے۔کراچی میں پی آئی اے ہیڈ آفس سے 4 لیپ ٹاپ چوری ہوگئے ہیں،

یہ چاروں لیپ ٹاپ ایک ہفتہ قبل ایک ہی دن میں سی سی ٹی وی کیمروں سمیت تمام سیکیورٹی انتظامات کے باوجود چوری کیے گئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ 2 لیپ ٹاپ ڈپٹی جنرل منیجر اکاؤنٹنگ تنویربنگش کے دفتر اور باقی دو انجینئرنگ فنانس اورآڈٹ ڈپارٹمنٹ سے چوری کیے گئے۔ڈپٹی جنرل منیجراکاونٹنگ تنویربنگش نے اس حوالے سے حکام کو آگاہ کردیا ہے تاہم پی آئی اے سیکیورٹی ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد بھی لیپ ٹاپ برآمدکرانے میں ناکام ہے جبکہ اب تک چوری کا مقدمہ بھی درج نہیں کیایا جاسکا ہے۔ترجمان پی آئی اے نے لیپ ٹاپ چوری کی تصدیق کردی ہے، تاہم ذرائع کہتے ہیں کہ پی آئی اے کے اہم ترین شعبے کے لیپ ٹاپ ملی بھگت سے چوری کرائے گئے ہیں۔چوری ہونے والے لیپ ٹاپ میں شعبہ فنانس کااہم ریکارڈ موجود تھا اور اہم ترین لیپ ٹاپ آڈٹ ڈپارٹمنٹ کا تھا ، جس میں حساس نوعیت کا ریکارڈ موجود تھا۔ شعبہ فنانس کے 4 انتہائی اہمیت کے حامل لیپ ٹاپ چوری کرلیے گئے ہیں۔یہ لیپ ٹاپ ڈپٹی جنرل منیجر اکاونٹنگ ، انجینئرنگ فنانس اور آڈٹ ڈپارٹمنٹ سے چوری کیے گئے۔کراچی میں پی آئی اے ہیڈ آفس سے 4 لیپ ٹاپ چوری ہوگئے ہیں، یہ چاروں لیپ ٹاپ ایک ہفتہ قبل ایک ہی دن میں سی سی ٹی وی کیمروں سمیت تمام سیکیورٹی انتظامات کے باوجود چوری کیے گئے۔  کراچی میں پی آئی اے ہیڈ آفس سے شعبہ فنانس کے 4 انتہائی اہمیت کے حامل لیپ ٹاپ چوری کرلیے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…