بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

”باپ کی بیٹی کے ساتھ زیادتی“ کیس کی اصل کہانی کھلنے پر معزز جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی رو پڑے، کیا فیصلہ سنا دیا؟افسوسناک صورتحال‎

datetime 27  فروری‬‮  2018 |

بیٹی کے ساتھ جنسی بداخلاقی کے الزام کے مقدمے کی سماعت کے دوران الزام لگانیوالی والدہ کے سچ اگلنے پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی آبدیدہ ہوگئے، دوران سماعت لڑکی کی جانب سے نزیراں ملک ایڈووکیٹ جبکہ بچی کے والد مجرم جو کہ اسلام آباد پولیس میں بطور کانسٹیبل تعینات تھاکی جانب شاہد نذیر خان ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل سنگل رکنی بینچ نے بیٹی سے بداخلاقی کے

الزام میں ماتحت عدالت سے 25سال قید کی سزا دئیے جانے کے خلاف دائر کی گئی اپیل پر سماعت کی۔ دوران سماعت والدہ کی جانب سے عدالت میں سچ اگلنے پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی اس وقت آبدیدہ ہوگئے جب بچی کی والدہ نے عدالت کو بتایاکہ وہ اپنے دوست کے ساتھ دوسری شادی کرنا چاہتی تھی اس لئے اپنے شوہر کے خلاف جھوٹا الزام لگایا جس پر شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو شرم نہیں آئی ،اپنے شوہر پر اتنا بڑا جھوٹا الزام لگایا جس سے نہ صرف اس کی نوکری چلی گئی بلکہ وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے جل رہا ہے، آپ کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے جس پر خاتون کی جانب سے عدالت سے معافی کی استدعا کردی گئی ۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی مذکورہ کیس پر ریمارکس دیتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔بعدازاں عدالت نے سچ سامنے آنے کے بعد پولیس کانسٹیبل کو بری کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس نمٹا دیا ۔واضح رہے نجی ٹی وی پر پروگرام نشر کئے جانے کے اسلام آباد کے تھا نہ کورا ل پولیس نے باعزت بری ہونے والے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ بیٹی کے ساتھ جنسی بداخلاقی کے الزام کے مقدمے کی سماعت کے دوران الزام لگانیوالی والدہ کے سچ اگلنے پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی آبدیدہ ہوگئے، دوران سماعت لڑکی کی جانب سے نزیراں ملک ایڈووکیٹ جبکہ بچی کے والد مجرم جو کہ اسلام آباد پولیس میں بطور کانسٹیبل تعینات تھاکی جانب شاہد نذیر خان ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل سنگل رکنی بینچ نے بیٹی سے بداخلاقی کے الزام میں ماتحت عدالت سے 25سال قید کی سزا دئیے جانے کے خلاف دائر کی گئی اپیل پر سماعت کی۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…