پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

داعش کا خطرہ،خیبرحکومت کی سکیورٹی اداروں کو جدید آ لات کی فراہمی کی درخواست

datetime 26  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی)پاک افغان سرحدی علاقوں میں عالمی دہشتگرد تنظیم داعش کے بڑھتے ہوئے خطرات اور پاکستان میں قدم جمانے سے روکنے کیلیے خیبرپختونخوا حکومت نے قانون نافذکرنے والے اداروں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کے حوالے سے معاونت کی درخواست کردی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق درخواست میں کہاگیا ہے کہ فرنٹ لائن پر پاک فوج کے بعد دفاعی خدمات انجام دینے میں مصروف خیبرپختونخوا پولیس کو جدید ہتھیاروں سے لیس کرنے سے داعش جیسے عالمی خطرے کو روکنے میں مدد ملے گی۔

معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان سے ملحقہ افغان علاقوں میں امریکا اور بھارتی آشیرباد ، پاکستان سے بھاگنے والے کالعدم جماعتوں بالخصوص ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کی ذہن سازی اور داعش میں شمولیت کیلیے بھاری رقوم خرچ کرنے کا سلسلہ جاری ہے جس کا مقصد پاکستان میں داعش کو فروغ دینا اور پاکستان کو اندرونی طورپرکمزورکرنا ہے۔ذرائع نے بتایاکہ داعش کا سب سے زیادہ دبا ماضی میں دیگر شدت پسندوں کی طرح ایک بار پھر خیبرپختونخوا پولیس پر آئے گا جو پاک فوج کے بعد شہری و دیہی علاقوں میں فرنٹ لائن فورس کے طورپر خدمات انجام دے رہی ہے۔خیبرپختونخوا پولیس فرنٹ لائن پر دہشتگردی کیخلاف بیک وقت اندرون صوبہ اور سرحد پار بیٹھے دشمنوں کا مقابلہ کر رہی ہے اور دہشتگردی کے90 فیصد واقعات میں دہشتگرد خیبر پختونخواکو ہی ٹارگٹ کرتے ہیں، ان واقعات کیخلاف خیبر پختونخوا پولیس90 فیصد کامیاب نتائج دے رہی ہے جبکہ اس دوران90 فیصد شہادتیں بھی خیبرپختونخوا پولیس کی ہی ہوتی ہیں۔دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اب تک1600سے زائد خیبرپختونخواپولیس کے اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا ہے۔ خیبرپختونخوا پولیس نے3 سال کے دوران ایک ہزار645 دہشتگردوں کو گرفتار کیا ہے جن میں سے124کے سرکی قیمتیں مقرر تھیں۔ انتہائی مطلوب دہشتگردوں کی فہرست میں شامل50 دہشتگرد پولیس کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا انتظامیہ کو وسائل کی کمی کا سامنا ہے جس کے باعث مشترکہ مفادات کونسل کو لکھا ہے کہ انہیں فنڈز نہ بھی دیں توکم ازکم جدید ہتھیار،وردیاں ،پولیس ہیلمٹ، بکتر بندگاڑیاں،گولہ بارود اورجدید ٹیکنالوجی فراہمی سے خیبر پختونخوا پولیس کو مزید مضبوط کرنے میں تعاون کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…