پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

میگا کرپشن سکینڈل میں ملوث اہم شخصیت نے ’’اعترافِ جرم‘‘ کر لیا، 96 کروڑ روپے واپس کرنے کی پیشکش قبول کر لی گئی، انتہائی افسوسناک تفصیلات منظر عام پر

datetime 24  فروری‬‮  2018 |

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک) اب تک پاکستان میں کرپشن کرنا انتہائی آسان سمجھا جاتا تھا، اب احتساب کا عمل فعال ہوتا جا رہا ہے لیکن پھر بھی پلی بارگین کا سلسلہ جاری ہے، واضح رہے کہ بلوچستان میگا کرپشن کیس کے فرنٹ مین ٹھیکیدار سہیل مجید کی 96 کروڑ روپے کی پلی بارگین کی درخواست منظور کر لی گئی ہے،

احتساب عدالت ون کے جج عبدالمجید ناصر نے گزشتہ روز ہونے والی سماعت میں ملزم ٹھیکیدار سہیل مجید کی طرف سے دی جانے والی پلی بارگین کی درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے سہیل مجید کی بارگین کی درخواست منظور کر لی ہے، ملزم سہیل مجید نے 96کروڑ روپے کی کرپشن کا اعتراف کیا اور پلی بارگین کی درخواست دی، سماعت میں نیب کے تفتیشی افسر شعیب شیخ اور نیب پراسیکیوٹر راشد گولڑہ نیب کی طرف سے پیش ہوئے۔ عدالت کو تفتیشی افسر شعیب شیخ نے بتایا کہ ملزم سہیل مجید سے 46 کروڑ کے پے آرڈر وصول کر چکے ہیں جبکہ 50 کروڑ کی جائیداد جلد بلوچستان حکومت کے سپرد کر دی جائے گی، سماعت کے دوران اراضی کے 13ضامن بھی عدالت میں پیش ہوئے جنہوں نے 50 کروڑ جمع کرانے تک جائیداد گروی رکھنے کی عدالت سے استدعا کی، جس پر عدالت نے کہا کہ اگر ملزم سہیل مجید نے مطلوبہ وقت میں رقم جمع نہ کرائی تو اراضی مالکان کو جیل جانا ہو گا۔ احتساب عدالت نے میگا کرپشن کیس میں گرفتار ٹھیکیدار سہیل مجید کی پلی بارگین کی درخواست منظور کرتے ہوئے سہیل مجید کی رہائی کے احکامات جاری کر دیے۔ ملزم ٹھیکیدار سہیل مجید کی طرف سے دی جانے والی پلی بارگین کی درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے سہیل مجید کی بارگین کی درخواست منظور کر لی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…