پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

قصورجنسی سیکنڈل میں گرفتار تمام ملزمان باعزت بری

datetime 24  فروری‬‮  2018 |

لاہور(آن لائن) انسدادِ دہشت گردی عدالت نے قصور ویڈیو اسکینڈل کے 12 ملزمان کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔اے ٹی سی عدالت کے جج چوہدری الیاس نے قصور ویڈیو اسکینڈل کیس کی سماعت کی۔استغاثہ کی جانب سے 16 گواہان پیش کیے گئے تھے، تاہم عدالت نے تمام دلائل مکمل ہونے کے بعد 24 فروری کو فیصلہ سناتے ہوئے 12 ملزمان کو عدم ثبوتوں کی بنیاد پر بری کیا۔خیال رہے کہ 2015 میں یہ رپورٹس منظر عام پر آئیں تھی کہ قصور

سے پانچ کلو میٹر دور قائم حسین خان والا گاں کے 280 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ اس دوران ان کی ویڈیو بھی بنائی گئی جبکہ ان بچوں کی عمریں 14 سال سے کم بتائی گئی تھیں۔رپورٹس کے مطابق ان بچوں کے خاندانوں کو ویڈیو دکھا کر بلیک میل بھی کیا جاتا تھا اور ان کے بچوں کی ویڈیو منظر عام پر نہ لانے کیلئے لاکھوں روپے بھتہ طلب کیا جاتا تھا۔واضح رہے کہ قصور میں بچوں کے ساتھ ہونے والی بد فعلی، جنسی زیادتی اور اس کی فلم بندی کے واقعات کے منظر عام پر آنے کے بعد سات متاثرہ بچوں کے عزیزوں کی جانب سے ایف آئی آر درج کروائی گئی تھی۔قصور اسکینڈل کے حوالے سے 19 مقدمات انسداد دہشت گردی کی عدالت میں منتقل کیے گئے تھے جن میں 4 مقدمات کو انسداد دہشت گردی کی عدالت سے دیگر عدالتوں میں منتقل کردیا گیا تھا جبکہ دیگر مقدمات زیر التوا ہیں۔واضح رہے کہ 18 اپریل 2016 کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے قصور میں بچوں کے ساتھ بدفعلی اور زیادتی میں ملوث دو ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔عدالت نے مجرم حسیم عامر اور فیضان مجید کو 25، 25 سال قید کی سزا سنائی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں 3 لاکھ روپے فی کس جرمانے کی بھی سزا سنائی گئی تھی۔بعدِازاں 13 فروری 2018 کو انسداد دہشت گردی عدالت نے قصور ویڈیو اسکینڈل کیس میں تین مجرموں کو عمر قید اور تین تین لاکھ روپے جرمانے کی سزائیں سنائی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…